کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 327
’’اہل بدعت کی نشانیاں ظاہر و باہر ہیں،ان کی سب سے واضح علامت یہ ہے کہ وہ حاملین سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید دشمنی اور عداوت رکھتے ہیں اور انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘‘[1] (۴) بدعتی کے عمل کی عدم قبولیت: کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((مَنْ أَحْدَثَ فِيْ أَمْرِنَا ہٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ۔)) ’’جس کسی نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔‘‘ اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے: ((مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَیْسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَہُوَ رَدٌّ۔))[2] ’’جس کسی نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں تو وہ مردود ہے۔‘‘ (۵) بدعتی کا برا انجام: کیونکہ شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ انسان کو مختلف گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں جالے،چنانچہ اس کی سب سے پہلی گھاٹی شرک باللہ ہے،اگر بندۂ مومن اس گھاٹی سے نجات پالیتا ہے تو وہ اسے بدعت کی گھاٹی پر طلب کرتا اور دعوت دیتا ہے۔ اس سے یہ بات بخوبی معلوم ہوتی ہے کہ بدعات عام گناہوں کی بہ نسبت زیادہ خطرناک ہیں۔[3] اسی لیے حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ’’ابلیس لعین کو گناہوں کی بہ نسبت بدعت زیادہ محبوب ہے،کیونکہ گناہوں سے تو توبہ کرلی جاتی ہے لیکن بدعت سے توبہ نہیں کی جاتی۔‘‘[4]
[1] عقیدۃ أہل السنۃ وأصحاب الحدیث،ص:۲۹۹۔ [2] اس حدیث کی تخریج ص :۵۲ میں گزرچکی ہے۔ [3] دیکھئے: مدارج السالکین،از ابن القیم رحمہ اللہ،۱/۲۲۲۔ [4] شرح السنۃ،لامام بغوی رحمہ اللّٰہ،۱/۲۱۶۔