کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 313
((إِنَّہَا مُبَارَکَۃٌ،إِنَّہَا طَعَامُ طَعْمٍ وَشِفَائُ سَقِیْمٍ۔))[1]
’’یہ بڑا بابرکت پانی ہے،یہ بھوکے کی غذا اور مریض کی شفایابی کا ذریعہ ہے۔‘‘
اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے،فرماتے ہیں :
((مَائُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَہٗ۔))[2]
’’آب زم زم جس مقصد کے لیے نوش کیا جائے اس سے اس مقصد کی تکمیل ہوتی ہے۔‘‘
نیز بیان کیا جاتا ہے کہ
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آب زم زم برتنوں اور مشکوں میں بھر کر لے جاتے اور اسے مریضوں پر چھڑکتے اور انہیں پلاتے تھے۔‘‘[3]
(۴) آب باراں سے برکت کا حصول:
اس میں کوئی شک نہیں کہ بارش ایک بڑی بابرکت شے ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس میں برکت رکھی ہے،وہ یوں کہ اس بارش سے لوگ مویشی اور چوپائے سیراب ہوتے ہیں اور اسی طرح اس سے درخت اور میوے پیدا ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس بارش کے ذریعہ ہر شے میں زندگی کی روح ڈالتا ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں :
[1] صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فضل أبي ذر رضی اللّٰہ عنہ،۴/۱۹۲۲،حدیث نمبر: ۲۴۷۳،قوسین کے درمیان کا جملہ مسند بزار، سنن بیہقی اور معجم طبرانی میں ہے،امام ہیثمی مجمع الزوائد میں فرماتے ہیں کہ ’’اس کے سارے رواۃ ثقہ ہیں ‘‘،۳/۲۸۶۔
[2] سنن ابن ماجہ،کتاب المناسک،باب الشرب من ماء زمزم،۲/۱۰۱۸،حدیث نمبر:۳۰۶۲،امام العصر علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابن ماجہ (۲/۱۸۳) اور ارواء الغلیل (۴/۳۲۰) میں اس کی تصحیح فرمائی ہے۔
[3] سنن الترمذی بنحوہ،بروایت حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا،کتاب الحج،بابٌٓ،حدثنا أبو کریب،۳/۲۸۶،حدیث نمبر ۹۶۳، والبیہقی ،۵/۲۰۲، علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ترمذی (۱/۲۴۸) اور سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ (۲/۵۷۲) میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔