کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 302
’’میں نے اپنے مشائخ و فقہاء میں سے کسی کو نہ پایا کہ وہ شعبان کی پندرہویں شب کی طرف ذرا بھی نظر التفات کرتے ہوں اور نہ مکحول کی حدیث کی طرف[1] اور نہ ہی دوسری راتوں پر اس رات کی کوئی فضیلت سمجھتے تھے۔‘‘[2] امام ابوبکر طرطوشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ابومحمد المقدسی نے مجھے خبر دی وہ فرماتے ہیں : ’’ماہ رجب اور شعبان میں جو یہ ’’صلاۃ الرغائب‘‘ پڑھی جاتی ہے،ہمارے یہاں بیت المقدس میں کبھی نہ تھی،ہمارے یہاں سب سے پہلے اس کا وجود ۴۴۸ھ میں ہوا،وہ اس طرح کہ ابن ابو الحمراء نامی ایک شخص نابلس سے ہمارے یہاں بیت المقدس آیا،وہ ذرا خوش آواز تھا،چنانچہ پندرہویں شعبان کی شب مسجد اقصیٰ میں کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگا،اسے دیکھ کر ایک شخص اس کے پیچھے اور کھڑا ہوگیا،پھر تیسرے اور اسی طرح
[1] حدیث مکحول کی تخریج یوں ہے: ابن عاصم،في السنۃ،حدیث نمبر (۵۱۲)،وابن حبان،۱۲/۴۸۱،حدیث نمبر (۵۶۶۵)،والطبراني في الکبیر ، ۲۰/۱۰۹،حدیث نمبر (۲۱۵)،وابو نعیم في الحلیۃ،۵/۱۹۱،والبیہقي في شعب الإیمان ۵/۲۷۲،حدیث نمبر (۶۶۲۸)،بروایت حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ عنہ مرفوعاً: ’’یطلع اللّٰہ إلی خلقہ في لیلۃ النصف من شعبان فیغفر لجمیع خلقہ إلا لمشرک أو مشاحن۔‘‘ ’’پندرہویں شعبان کی شب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف تجلی فرماتا ہے اور اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے سوائے مشرک اور باہمی بغض و عداوت رکھنے والے کے۔‘‘ محدث العصر امام البانی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’یہ حدیث صحیح ہے،صحابہ کرام کی ایک جماعت سے مختلف سندوں سے مروی ہے،بعض سے بعض کو تقویت حاصل ہوتی ہے،وہ صحابہ یہ ہیں : معاذ بن جبل،ابوثعلبہ الخشنی،عبد اللہ بن عمرو،ابوموسیٰ اشعری،ابوہریرہ،ابوبکر صدیق،عوف بن مالک اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم،پھر ان آٹھوں سندوں کی تخریج کی ہے اور ان کے رجال پر چار صفحات پر مشتمل طویل گفتگو فرمائی ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر پندرہویں شعبان کی شب کی فضیلت میں امام البانی رحمہ اللہ کے بقول یہ روایت صحیح ہے،تب بھی اس سے اس شب میں خصوصیت کے ساتھ عبادتیں کرنا اور اس کے دن میں روزہ رکھنا ثابت نہیں ہوتا،سوائے اتنی مشروع عبادت کے جسے مسلمان سال کے دیگر ایام میں انجام دیتا ہے،کیونکہ عبادات توقیفی ہیں۔(بغیر دلیل کے ثابت نہیں ہوسکتیں ) [2] کتاب فیہ ما جاء في البدع،از امام وضاح،متوفی ۲۸۷ھ،ص:۱۰۰،نمبر ۱۱۹۔