کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 297
تیسری وجہ:....یہ بدعی نماز،نماز سے متعلق کئی مسائل میں شریعت کے اصولوں کی مخالفت پر مشتمل ہے:
۱: یہ نماز سجدوں کی تعداد،تسبیحوں کی تعداد اور اسی طرح ہر رکعت میں سورۂ قدر و سورۂ اخلاص کی تلاوت کی تعداد کے اعتبار سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر نمازوں میں معروف سنتوں کے خلاف ہے۔
۲: نماز میں خشوع و خضوع،استحضار قلبی،اللہ کے لیے فارغ البالی،نیز قرآن کریم کے معانی سے واقفیت وغیرہ جیسی سنتوں کے خلاف ہے۔
۳: گھروں میں نوافل کی ادائیگی کی سنت کے خلاف ہے،کیونکہ نوافل کی ادائیگی مساجد کی بہ نسبت گھروں میں زیادہ افضل ہے،اسی طرح فرداً فرداً ادا کرنا بھی مسنون ہے،سوائے رمضان میں نماز تراویح کے۔
۴: اس بدعی نماز کے وضع کرنے والوں کے نزدیک اس نماز کا کمال یہ ہے کہ اس دن (جمعرات کو) روزہ رکھا جائے اور ایسا کرنے سے دو سنتوں کا معطل کرنا لازم آتا ہے،افطار کی سنت،اور بھوک و پیاس کی شدت سے دل کا فارغ رکھنا۔
۵: اس نماز سے فارغ ہونے کے بعد کئے جانے والے دو سجدے بلاوجہ ہیں۔[1]
سابقہ تمام دلائل،ائمہ کرام کے فرمودات،بطلان کی وجوہات اور مفاسد کی اقسام سے ایک عقلمند کے لیے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ ’’صلاۃ الرغائب‘‘ ایک بدترین قسم کی بدعت اور اسلام میں ایک بے اصل اور نو ایجاد شے ہے۔
[1] کتاب الباعث علی انکار البدع والحوادث،از امام ابوشامہ،ص:۱۵۳۔۱۹۶،یہ تمام مفاسد اور بطلان کی وجوہات رجب کے پہلے جمعہ کی شب میں پڑھی جانے والی نماز ’’صلاۃ الرغائب‘‘ اور اسی طرح پندرہویں شعبان کی شب میں ادا کی جانے والی نماز ہر دو کو شامل ہیں،جیسا کہ ابوشامہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الباعث علی انکار البدع والحوادث‘‘ (ص:۱۷۴) میں اس بات کی وضاحت فرمائی ہے۔