کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 286
ہے کہ اپنے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے روافض (شیعوں ) کی تقلید اور ان کے طریقہ کی پیروی کرے؟
۴: اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی تکمیل فرما دی ہے،ار شاد ہے:
﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ﴾ (المائدہ:۳)
’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھر پور کردیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہوگیا۔‘‘
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کھلے پیغام کو لوگوں تک پہنچا دیا ہے اور انہیں جنت تک پہنچانے اور جہنم سے دور کرنے والے ہر راستے کی راہنمائی کردی ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ انبیائے کرام میں سب سے افضل اور سلسلۂ نبوت کی آخری کڑی ہیں،اور انبیاء میں از روئے تبلیغ و نصیحت سب سے اکمل ہیں،اگر یوم پیدائش کا جشن منانا اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ دین میں سے ہوتا تو اسے اپنی امت کو ضرور بتلاتے یا اپنی حیات مبارکہ میں اس کا اہتمام ضرور کرتے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
((مَا بَعَثَ اللّٰہُ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا کَانَ حَقًّا عَلَیْہِ أَنْ یَدُلَّ أُمَّتَہُ عَلٰی خَیْرٍ مَا یَعْلَمُہٗ لَہُمْ،وَیَنْذُرُہُمْ شَرَّ مَا یَعْلَمُہُ لَہُمْ۔))[1]
’’اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا اس پر یہ واجب تھا کہ وہ جو بھی خیر و بھلائی جانتا ہو اپنی امت کو اس کی راہنمائی کردے،اور جو بھی برائی جانتا ہو اس پر
[1] ( ۵۶۴ھ میں قتل کیا،امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’عاضد کا معاملہ صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے ہاتھوں سر انجام پایا،یہاں تک کہ انہوں نے اسے نکال بھگایا اور بنو عباس کو بحال کیا اور بنو عبید کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا،اور روافض کی حکومت کو کچل کر رکھ دیا،یہ چودہ لوگ تھے جو من مانی خلیفہ بن بیٹھے تھے۔’’عاضد‘‘ کے معنی ’’کاٹنے والے‘‘ کے ہوتے ہیں،چنانچہ عاضد خود اپنے اہلِ خانہ کی حکومت کو کاٹ دینے والا ثابت ہوا،۱۵/۲۱۲۔
صحیح مسلم،کتاب الإمارۃ،باب وجوب الوفاء ببیعۃ الخلفاء،الأول فالأول،۲/۱۴۷۳،حدیث : (۱۸۴۴۔