کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 283
وَصَلَاتُکُمْ۔))[1]
’’میری قبر کو عید (میلا ٹھیلا) نہ بناؤ اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ اور جہاں کہیں بھی رہو مجھ پر درود و سلام بھیجتے رہو کیونکہ تمہارا درود و سلام مجھے پہنچ جائے گا۔‘‘
اس حدیث سے وجہ استدلال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک سطح زمین پر پائی جانے والی تمام قبروں سے افضل ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عید (میلا ٹھیلا) بنانے سے منع فرمایا ہے،تو دیگر قبروں کے پاس اس غرض سے جانا بدرجہ اولیٰ حرام اور ممنوع ہوگا،خواہ وہ کسی کی قبر ہو۔[2] حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((لَا تَجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قُبُوْرًا وَلَا تَجْعَلُوْا قَبْرِيْ عِیْدًا،وَصَلُّوْا،عَلَّی فَإِنَ صَلَاتَکُمْ تَبْلُغُنِیْ حَیْثُ کُنْتُمْ۔))[3]
’’اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ،اور میری قبر کو عید (میلا ٹھیلا) نہ بناؤ اور مجھ پر درود بھیجتے رہو کیونکہ تمہارا درود مجھے پہنچتا ہے تم جہاں کہیں بھی ہو۔‘‘
آٹھواں مطلب....عصر حاضر کی بدعات:
دور حاضر میں پائی جانے والی بدعات بہت زیادہ ہیں،چند بدعات بطور مثال حسب ذیل ہیں :
[1] فضل الصلاۃ علی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم،از امام اسماعیل قاضی،ص : ۳۴،اور امام البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے،اور اس کی بہت ساری سندیں ہیں جنہیں اپنی کتاب ’’تحذیر الساجد من اتخاذ القبور مساجد‘‘ (ص:۱۴۰) میں ذکر فرمایا ہے۔
[2] الدرر السنیۃ في الأجوبۃ النجدیۃ،از عبد الرحمن بن قاسم،۶/۱۶۵۔۱۷۴۔
[3] سنن ابوداؤد،(بلفظہ) کتاب المناسک،باب زیارۃ القبور،۲/۲۱۸،حدیث نمبر:(۲۰۴۲) ومسند احمد،۷/۳۶،علامہ البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’تحذیر الساجد من اتخاذ القبور مساجد‘‘ (ص:۱۴۲) میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔