کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 269
((اِیَّاکُمْ وَالْغُلُوَّ فِی الدِّیْنِ،فَاِنَّمَا اَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ الْغُلُّوُ فِی الدِّیْنِ)) [1] ’’دین میں غلو کرنے سے بچو،کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلو ہی نے ہلاک کیا ہے۔‘‘ معلوم ہوا کہ دین میں غلو کرنا شرک و بدعات اور خواہشات کے عظیم ترین اسباب میں سے ہے،[2] اور دین میں غلو کی خطرناکی ہی کو محسوس کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بارے میں مبالغہ آرائی پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: ((لَا تَطْرُوْنِیْ کَمَا اَطْرَتِ النَّصَارٰی عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ فَاِنَّمَا اَنَا عَبْدُہٗ،فَقُوْلُوْا: عَبْدُاللّٰہِ وَرَسُوْلُہٗ)) [3] ’’تم (حد سے زیادہ تعریفیں کر کے) مجھے حد سے آگے نہ بڑھانا جیسا کہ نصاریٰ (عیسائیوں ) نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو حد سے آگے بڑھا دیا تھا،میں اللہ کا بندہ ہوں لہٰذا مجھے اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہو۔‘‘ پانچواں مطلب....بدعت کی قسمیں : مختلف اعتبار سے بدعت کی مختلف قسمیں ہیں،جن کی تفصیل مختصراً درج ذیل ہے:
[1] نسائی،کتاب المناسک،باب التقاط الحصی،۵/۲۶۸،وابن ماجہ،کتاب المناسک،باب قدر حصی الرمي،۲/۱۰۰۸،واحمد،۱/۳۴۷،اس حدیث کی سند کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’’اقتضاء الصراط المستقیم‘‘ م(۱/۲۸۹) میں صحیح قرار دیا ہے۔ [2] دیکھئے: اقتضاء الصراط المستقیم،از شیخ الاسلام ابن تیمیہ،۱/ ۲۸۹،والاعتصام،از امام شاطبی،۱/ ۳۲۹-۲۳۱،ورسائل ودراسات فی الاہواء....از ڈاکٹر ناصر عبدالکریم العقل،۱/ ۱۷۱،۱۸۳،والغلو فی الدین فی حیاۃ المسلمین المعاصرۃ،از ڈاکٹر عبدالرحمن ابن معلا اللویحق،ص: ۷۷-۸۱ والحکمۃ فی الدعوۃ الی اللّٰہ عزوجل،از سعید بن علی القحطانی (صاحب کتاب) ص: ۳۷۹۔ [3] صحیح بخاری،کتاب الانبیاء،باب قول اللّٰہ تعالیٰ ﴿واذکر فی الکتاب مریم....﴾ ۴/ ۱۷۱،حدیث نمبر (۳۴۴۵)