کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 266
بدعات وشرک کے عمل میں کفار کی مشابہت اختیار کی ہے،جس کے مظاہر تقریباتِ پیدائش(Birthday Festivals) جنازوں کی بدعات، اور قبروں پر عمارت کی تعمیر وغیرہ کی شکل میں موجود ہیں،اور اس میں کوئی شک نہیں کہ گذشتہ قوموں کی راہیں اپنانا بدعات وخواہشات کا ایک دروازہ ہے۔‘‘[1]
اس بات کی مزید وضاحت سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہوتی ہے،چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ،وَذِرَاعًا بِذَرَاعٍ،حَتّٰی لَوْ دَخَلُوْا فِیْ جُحْرِ ضَبٍّ لَا تَّبَعْتُمُوْہُمْ۔))
’’تم لوگ ضرور بالضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے راستوں کی پیروی کرو گے،ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز،حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے،تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے۔‘‘
ہم نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہود ونصاریٰ کی راہوں کی؟‘‘ اپ نے فرمایا: ’’فمن؟‘‘ تو اور کس کی؟‘‘[2]
امام نوووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’السنن‘‘ کے معنی راستے کے ہیں،اور بالشت،گز اور گوہ کے سوراخ سے گناہوں اور دیگر بے راہ روی کے کاموں میں شدت یکسانیت اور موافقت کی مثال مقصود ہے،نہ کہ کفر میں اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک کھلا معجزہ ہے،کیونکہ آپ کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف ثابت ہوئی۔[3]
[1] دیکھئے: تنبیہ اولی الابصار الی کمال الدین وما فی البدع من اخطار،از ڈاکٹر صالح سحیمی،ص: ۱۴۷،ورسائل و دراسات فی الاہواء والافتراق والبدع وموقف السلف منہا،از ڈاکٹر ناصر العقل،۲/ ۱۷۰،نیز کتاب التوحید،از ڈاکٹر صالح الفوزان،ص: ۸۷۔
[2] متفق علیہ: البخاری،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم : ’’لتتبعن سنن من کان قبلکم‘‘ ۸/ ۱۹۱،حدیث نمبر (۷۳۲۰) ومسلم،کتاب العلم،باب اتباع سنن الیہود والنصاری ۴/ ۲۰۵۴ حدیث نمبر (۲۶۶۹)
[3] صحیح مسلم بشر ح امام نووی: ۱۶/ ۴۶۰۔