کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 261
شیطان بھلا دے تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالموں کے ساتھ مت بیٹھیں۔‘‘
نیز فرمایا:
﴿وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا ﴾ (النساء:۱۴۰)
’’اور اللہ تعالیٰ تمہارے پاس اپنی کتاب میں یہ حکم اتار چکا ہے کہ تم جب کسی مجلس والوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا کفر کرتے اور مذاق اڑاتے ہوئے سنو تو اس مجمع میں ان کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک کہ وہ اس کے علاوہ اور باتیں نہ کرنے لگیں،ورنہ تم بھی اس وقت انہی جیسے ہو۔یقیناً اللہ تعالیٰ تمام کافروں اور منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے۔‘‘
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’إِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِیْسِ السُّوْئِ کَحَامِلِ الْمِسْکِ وَنَافِخِ الْکَیْرِ،فَحَامِلُ الْمِسْکِ إِمَّا أَنْ یَّحْذِیَکَ وَإِمَّا أَنْ تُبْتَاعَ مِنْہَ،وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْہُ ریِْحًا طَیِبَّۃً،وَنَافِخُ الْکِیْرِ إِمَّا أَنْ یَحْرِقَ ثِیَابَکَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِیْحًا خَبِیْثَۃً۔‘‘[1]
’’نیک ہم نشین اور بُرے ہم نشین کی مثال مشک فروش اور آگ کی بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے۔مشک فروش یا تو آپ کو مشک ہدیہ میں دے دے گا یا آپ اس سے خرید لیں گے،یا کم از کم تمہیں اس سے پاکیزہ خوشبو ضرور ملے گی اور
[1] متفق علیہ: صحیح البخاری: کتاب الذبائخ والصید،باب السمک،۶/۲۸۷،حدیث:۵۵۳۴،ومسلم،کتاب البر والصلۃ،باب استحباب مجالسۃ الصالحین....۴/۲۰۲۶،حدیث:۲۶۲۸،بروایت ابوموسیٰ اشعری رضی اللّٰہ عنہ۔