کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 250
بِأَلْسَنَتِنَا‘‘،’’ہاں،وہ ہماری طرح کے لوگ ہوں گے اور ہماری زبان بولیں گے۔‘‘ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں ان سے دو چار ہوں (میں انھیں پالو) تو کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا: ’’تَلْزِمْ جَمَاعَۃَ الْمُسْلِمِیْنَ،وَإِمَامَہُمْ‘‘،’’مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑو‘‘،میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول،اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت اور ان کا کوئی امام ہی نہ ہو تو کیا کروں ؟ فرمایا: ’’فَاعْتَزِلْ تِلْکَ الْفِرَقَ کُلَّھَا،وَلَوْ أَنْ تَعُضَّ عَلٰی أَصْلِ شَجَرَۃٍ حَتّٰی یُدْرِکَکَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلٰی ذٰلِکَ‘‘،’’ان تمام فرقوں سے کنارہ کش ہوجاؤ،چاہے مرتے دم تک کسی درخت کی جڑ کیوں نہ چبانا پڑے۔‘‘[1]
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ’’یَھْدُوْنَ بِغَیْرِ ھَدْیِيْ‘‘ (میری راہ کے علاوہ کے ذریعہ لوگوں کی رہنمائی کریں گے) میں ’’ھدي‘‘ سے مراد سیرت اور طریقہ ہے،نیز ’’دُعَاۃُ عَلٰی أَبْوَابِ جَہَنَّمَ مَنْ أَجَابَہُمْ إِلَیْھَا قَذَفُوْہُ فِیْھَا‘‘ (کچھ لوگ جہنم کے دروازے پر بیٹھے آواز لگا رہے ہوں گے،جو ان کی بات مان لے گا وہ اسے جہنم میں دھکیل دیں گے) سے مراد اہلِ علم کے نزدیک وہ امراء ہیں جو بدعت یا کسی اور ضلالت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے تھے جیسا کہ خوارج،قرامطہ اور فتنہ پروروں کا حال تھا۔‘‘[2]
۸: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’أَمَّا بَعْدُ: أَ لَا أَیُّھَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ یُوْشِکُ أَنْ یَأْتِيَ رَسُوْلُ
[1] متفق علیہ: صحیح البخاری،کتاب الفتن،باب کیف الأمر إذا لم تکن جماعۃ،۸/۱۱۹،حدیث:۷۰۸۴،ومسلم کتاب الإمارۃ،باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین عند ظہور الفتن وفي کل حال،وتحریم الخروج علی الطاعۃ،ومفارقۃ الجماعۃ،۳/۱۴۷۵،حدیث:۱۸۴۷۔
[2] صحیح مسلم بشرح نووی،۱۲/۴۷۹۔