کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 248
۵: حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ سَنَّ فِيْ الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہٗ أَجْرُھَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا بَعْدَہُ،مِنْ غَیْرِ أَنْ یُّنْقَصَ مِنْ أُجُوْرِہِمْ شَيْئٌ،وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامُ سُنَّۃً سَیِّئَۃً کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُھَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہٖ مِنْ غَیْرِ أَنْ یُّنْقَصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَيْئٌ۔))[1] ’’جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ شروع کیا تو اسے اس کا اجر ملے گا اور ان لوگوں کا اجر بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے،لیکن خود ان کے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی۔اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ شروع کیا تو اس پر اس کا گناہ ہوگا اور ان لوگوں کا گناہ بھی جنہوں نے اس پر عمل کیا،لیکن خود ان کے گناہ میں کوئی کمی نہ ہوگی۔‘‘ ۶: حصرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک انتہائی بلیغ نصیحت فرمائی جس سے دل دہل گئے،آنکھیں اشکبار ہوگئیں تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم،گویا یہ رخصت کرنے والے کی نصیحت ہے،لہٰذا آپ ہمیں وصیت فرمائیے،آپ نے فرمایا: ((أُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ،وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ،وَإنِْ تَأَمَّرَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ،فَإِنَّہُ مَنْ یَّعِشْ مِنْکُمْ بَعْدِي فَسَیَرَی اِخْتَلَافًا کَثِیْرًا،فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِيْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْنَ عَضُّوا عَلَیْھَا بِالنَّوَاجِذِ،وَإِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ،فَإِنَّ کُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ۔)) [2]
[1] صحیح مسلم،کتاب الزکاۃ،باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق تمرۃ،۲/۷۰۵،حدیث:۱۰۱۷۔ [2] ابوداؤد کتاب السنۃ،باب في لزوم السنۃ،۴/۲۰۱،حدیث:۴۷۰۷،وترمذی،کتاب العلم،باب ما جاء في الأخذ بالسنۃ واجتناب البدع، ۵/۴۴، حدیث:۲۶۷۶،امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا:’’ھذا حدیث حسن صحیح‘‘ یہ حدیث حسن صحیح ہے،وابن ماجہ،في المقدمۃ باب اتباع سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین ۱/۱۵۔۱۶،حدیث:۴۲،۴۳،۴۴،ومسند احمد،۴/۴۶۔۴۷۔