کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 240
۲: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی اتباع اور پیروی کا حکم دیا ہے اور یہ عمل خلفائے راشدین کی سنتوں میں سے ہے۔[1] بدعت کی دو اقسام ہیں : ۱: بدعت مکفرہ:....بدعت مکفرہ وہ بدعت ہے جس کا مرتکب دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ ۲: بدعت مفسقہ:....بدعت مفسقہ وہ بدعت ہے جس کا مرتکب دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔[2] دوسرا مطلب....قبولیت عمل کی شرطیں : تقرب الٰہی کی غرض سے کئے گئے کسی بھی عمل کی قبولیت کے لیے دو شرطیں ضروری ہیں : پہلی شرط:....وہ عمل خالص اللہ وحدہ لاشریک کی رضا و خوشنودی کے لیے کیا جائے،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ،وَإِنَّمَا لِکُلِّ امْرِيئٍ مَانٰوَی۔‘‘[3] ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی ہے۔‘‘ دوسری شرط:....وہ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق انجام دیا جائے،جیسا کہ ارشاد نبوی ہے: ’’مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَیْسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَہُوَ رَدٌّ۔‘‘[4]
[1] جامع العلوم والحکم،از ابن رجب،۲/۱۲۹ بہ معمولی تصرف کے ساتھ۔ [2] دیکھئے: الاعتصام،از امام شاطبی،۲/۵۱۶۔ [3] متفق علیہ: صحیح البخاری،کتاب بدء الوحی،باب کیف کان بدء الوحی إلی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم،۱/۹،حدیث:۱،و صحیح مسلم،کتاب الإمارۃ،باب قولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’إنما الأعمال بالنیات‘‘،۲/۱۵۱۵،حدیث:۱۹۰۷۔ [4] صحیح مسلم،کتاب الأقضیۃ،باب نقض الأحکام الباطلۃ ورد محدثات الأمور،۳/۱۳۴۴،حدیث:۱۷۱۸،متفق علیہ روایت کے الفاظ اس طرح ہیں : ’’من أحدث في أمرنا ھذا ما لیس منہ فہو رد‘‘ دیکھئے: بخاری،حدیث: ۲۶۹۷،مسلم،حدیث:۱۷۱۸۔