کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 228
کرتے ہیں۔
ابوبکر بن عیاش سے پوچھا گیا،سنی کون ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:
’’سنی وہ ہے جس کے سامنے من مانی بے دلیل باتیں بیان کی جائیں تو ان کی طرف بالکل ہی نظر التفات نہ کرے۔‘‘[1]
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ رقمطراز ہیں :
’’اہل سنت امت کے سب سے بہتر اور افضل ترین لوگ ہیں جو کہ صراط مستقیم،یعنی حق و اعتدال کی راہ پر گامزن ہیں۔‘‘[2]
۷۔ اہل سنت لوگوں میں بگاڑ پیدا ہوجانے پر اجنبی کہلائیں گے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِیْبًا وَسَیَعُوْدُ کَمَا بَدَأَ غَرِیْبًا فَطُوْبٰی لِلْغُرَبَائِ۔‘‘[3]
’’اسلام اجنبیت کے عالم میں آیا تھا اور عنقریب پھر اجنبیت سے دو چار ہوگا جس طرح شروع میں تھا،تو خوش خبری (یا جنت) ہے اجنبیوں کے لیے۔‘‘
مسند احمد بن حنبل کی ایک روایت میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ سے پوچھا گیا کہ ’’غرباء‘‘ اجنبی کون لوگ ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا: ’’اَلنَّزَاعُ [4] مِنَ الْقَبَائِلِ‘‘۔[5]
’’اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرجانے والے۔‘‘
[1] شرح أصول اعتقاد أہل السنۃ والجماعۃ،۱/۷۲،نمبر:۵۳۔
[2] دیکھئے: مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰہ،۳/۳۶۸۔۳۶۹۔
[3] صحیح مسلم،کتاب الإیمان،باب بیان أن الإسلام بدأ غربیاً وسیعود غربیاً،ا/۱۳۰،حدیث:۱۴۵۔
[4] یعنی وہ اجنبی جو اپنے گھر بار اور کنبہ قبیلہ سے الگ ہوکر دور چلا گیا ہو،مفہوم یہ ہے کہ مہاجرین کے لیے خوش خبری ہو جنہوں نے اللہ کے واسطے اپنے وطنوں سے ہجرت کی ہے،دیکھئے: النھایۃ في غریب الحدیث والأثر،از ابن الاثیر،۵/۴۱۔
[5] مسند احمد بن حنبل رحمہ اللّٰہ : ۱/۱۳۹۸۔