کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 227
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح کی روایت مروی ہے۔[1]
۴۔ اہل سنت و جماعت کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مضبوطی سے قائم اور سابقین اولین مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم کے عقیدہ و منہج پر گامزن ہیں،اسی لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بابت فرمایا: (( مَاأَنَا عَلَیْہِ وَأَصْحَابِیْ۔)) [2]
’’یعنی اہل سنت و الجماعت وہ لوگ ہیں جو میرے اور میرے صحابہ کے منہج پر قائم ہیں۔‘‘
۵۔ اہل سنت و جماعت ہی وہ بہترین نمونہ ہیں جو راہ حق کی راہنمائی کرتے ہیں اور خود بھی اس پر عمل پیرا ہیں،حضرت ایوب سختیانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
((إِنَّ مِنْ سَعَادَۃِ الْحَدَثِ[3] وَالْأَعْجَمِیِّ أَن یُّوَفَّقَہُمَا اللّٰہُ لِعَالِمٍ مِّنْ أَہْلِ السُّنَّۃِ۔)) [4]
’’کسی عامی اور عجمی کے لیے باعث سعادت ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اہل سنت کے کسی عالم (سے ملاقات اور استفادہ) کی توفیق عطا فرما دے۔‘‘
حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ شہروں اور ملکوں کو زندگی عطا کرتا ہے اور وہ اہل سنت ہیں اور جو شخص یہ سمجھتا ہو کہ اس کے پیٹ میں حلال لقمہ ہی جاتا ہے تو وہ اللہ کی جماعت میں شامل ہے۔‘‘[5]
۶۔ اہل سنت سب سے بہتر لوگ ہیں،جو لوگوں کو بدعت اور اہل بدعت سے منع
[1] صحیح مسلم،کتاب الإمارۃ،باب قولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : ’’لا تزال طائفۃ من أمتي ظاہرین علی الحق لا یضرہم من خالفہم‘‘ ۲/۱۵۲۳، حدیث:۱۹۲۳۔
[2] اس حدیث کی تخریج صفحہ (۲۸) میں گزرچکی ہے۔
[3] ’’الحدث‘‘کے معنی نوجوان (عامی نوجوان) کے ہیں،دیکھئے : النھایۃ في غریب الحدیث والأثر،از ابن الاثیر،باب جاء مع دال،مادۃ ’’حدث‘‘ ۱/۳۵۱۔
[4] شرح أصول اعتقاد أہل السنۃ والجماعۃ،از لالکائی،۱/۱۶۶،نمبر : ۳۰۔
[5] حوالہ سابق،۱/۷۲،نمبر:۵۱۔