کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 225
فِرْقَۃً،وَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَاثْنَتَانِ وَسَبْعُوْنَ فِي النَّارِ ‘‘ قِیْلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ،۔مَنْ ہُمْ؟ قَالَ: ’’ اَلْجَمَاعَۃُ۔‘‘ )) [1] ’’یہود اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے،ان میں سے ایک جنتی ہے اور ستر جہنمی،اور نصاریٰ (عیسائی) بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے،ان میں سے صرف ایک جنتی ہے اور اکہتر جہنمی اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! یقیناً میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی،ان میں سے صرف ایک فرقہ جنتی ہوگا،اور بہتر فرقے جہنمی ہوں گے،دریافت کیا گیا،اے اللہ کے رسول! وہ جنتی فرقہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جماعت‘‘ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی جامع ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ ’’صحابہ نے پوچھا،اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا: ’’مَا أَنَا عَلَیْہِ وَأَصْحَابِیْ۔‘‘[2] ’’جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔‘‘ ۲۔ فرقہ ناجیہ:....(نجات یافتہ جماعت) یعنی جہنم سے نجات پانے والی جماعت،کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرقوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کا استثناء کیا اور فرمایا: ’’کُلُّہَا فِي النَّارِ إِلاَّ وَاحِدَۃٌ۔‘‘ [3] ’’سارے فرقے جہنمی ہوں گے سوائے ایک کے‘‘ یعنی صرف ایک جماعت جہنم سے نجات پائے گی۔ ۳۔ طائفہ منصورہ:....(غالب اور نصرت الٰہی سے سرفراز جماعت)
[1] یہ الفاظ ابن ماجہ کے ہیں،کتاب الفتن،باب افتراق الأمم ۲/۳۲۱،حدیث : ۳۹۹۲،ابوداؤد،کتاب السنۃ،باب شرح السنۃ،۴/۱۹۷،حدیث: ۴۵۹۶،ابن ابی عاصم،کتاب السنۃ،۱/۲۳،حدیث:۶۳،علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابن ماجہ میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے،۲/۳۶۴۔ [2] سنن الترمذی،کتاب الإیمان،باب ما جاء في افتراق ھذہ الأمۃ،۵/۲۶،حدیث:۲۶۴۱۔ [3] دیکھئے: من أصول أہل السنۃ والجماعۃ،از شیخ صالح بن فوزان الفوزان،ص : ۱۱۔