کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 211
ہوئے فرماتے ہیں : (( أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِيْ بِيْ وَأَنَا مَعَہُ إِذَا ذَکَرَنِيْ،فَإِنْ ذَکَرَنِيْ فِيْ نَفْسِہِ ذَکَرْتَہُ فِيْ نَفْسِيْ،وَإِنْ ذَکَرَنِيْ فِيْ مَلإٍ ذَکَرْتُہْ فِیْ مَلَإٍ خَیْرٍ مِنْہُمْ،وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَیَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَیْہِ ذِرَاعًا،وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَیَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْہُ بَاعًا،وَإِنْ أَتَانِيْ یَمْشِيْ أَتَیْتُہُ ہَرْوَلَۃٌ)) [1] ’’ میں اپنے سلسلہ میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوتا ہوں اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر وہ اپنے نفس میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں اسے اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں،اور اگر وہ مجھے کسی جماعت کے درمیان یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر جماعت (فرشتوں ) میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک ہاتھ کے بقدر قریب آتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کے درمیان کی دُوری کے بقدر اس سے قریب آتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔‘‘ واللّٰہ المستعان۔[2] ۱۴: لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ ہے اس کا لالچ نہ کرنا،کیونکہ اخلاص اور مدح و ثنا کی محبت اور لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ ہے اس کے لالچ کا ایک دل میں اکٹھا ہونا اسی طرح ناممکن ہے جس طرح آگ اور پانی کا اور گوہ اور مچھلی کا یکجا ہونا محال ہے،چنانچہ جب
[1] متفق علیہ بروایت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ: بخاری (الفاظ بخاری کے ہیں )،کتاب التوحید،باب قول اللّٰہ تعالیٰ: ﴿وَیَحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہُ﴾: ۸/۲۱۶،حدیث: ۷۴۰۵۔مسلم،کتاب الذکر والدعاء،باب الحث علی ذکر اللہ: ۴/ ۲۰۶۱،حدیث: ۲۶۷۵۔ [2] مذکورہ امور کی تفصیل کے لیے دیکھئے: منہاج القاصدین،ص: ۲۲۱،۲۲۳،کتاب الاخلاص از حسین عوائشۃ،ص: ۴۱ تا ۶۴۔الریاء ذمہ وأثرہ الشیء فی الامۃ از سلیم ہلالی،ص: ۶۱ تا ۷۲۔الاخلاص والشرک از ڈاکٹر عبدالعزیز بن عبداللطیف،ص: ۱۳۔