کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 194
الْأَرْضِ،فَمَنْ عَمِلَ مِنْہُمْ عَمَلَ الْآخِرَۃِ لِلدُّنْیَا لَمْ یَکُنْ لَّہُ فِي الْآخِرَۃِ مِنْ نَّصِیْبٍ۔)) [1]
’’ اس امت کو برتری،دین،رفعت و بلندی اور زمین میں اقتدار کی بشارت دے دو،چنانچہ ان میں سے جس نے آخرت کا کوئی عمل دنیا کے لیے انجام دیا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔‘‘
۷: ریاکاری اُمت کی شکست اور پسپائی کا سبب ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(( إِنَّمَا یَنْصُرُ اللّٰہُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃَ بِضَعِیْفِہَا،بِدَعْوَتِہِمْ وَصَلَاتِہِمْ،وَإِخْلَاصِہِمْ۔)) [2]
’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کی نصرت ان کے کمزوروں کی دُعا،ان کی نماز اور ان کے اخلاص کے ذریعہ فرماتا ہے۔‘‘
یہ حدیث اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ اللہ کے لیے اخلاص دشمنوں کے خلاف اُمت کی نصرت و مدد کا سبب ہے،نیز ریاکاری اُمت کی شکست اور پسپائی کا سبب ہے۔
۸: ریاکاری گمراہی میں اضافہ کرتی ہے،اللہ تعالیٰ نے منافقین کے سلسلہ میں فرمایا:
﴿ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ (8) يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ (9) فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ﴾ [البقرۃ:۹۔۱۰]
’’ وہ اللہ تعالیٰ کو اور مومنوں کو دھوکا دیتے ہیں،لیکن دراصل وہ خود اپنے آپ کو
[1] مسند أحمد: ۵/ ۱۳۴۔مستدرک حاکم: ۴/ ۴۱۸۔اس حدیث کو علامہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الترغیب (۱/ ۱۵) میں صحیح قرار دیا ہے۔
[2] اس حدیث کو امام نسائی نے انہی الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔کتاب الجہاد،باب الاستنصار بالضعیف: ۶/۴۵،حدیث: ۳۱۷۸،اور اس حدیث کی اصل صحیح بخاری میں ہے: کتاب الجہاد والسیر،باب من استعان بالضعفاء والصالحین فی الحرب: ۳/ ۲۹۶،حدیث: ۲۸۶۹۔اسے علامہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الترغیب (۱/ ۶) میں صحیح قرار دیا ہے۔