کتاب: روشني اور اندھیرا - صفحہ 193
’’ جب اللہ تعالیٰ تمام اوّلین وآخرین (اگلوں اور پچھلوں ) کو قیامت کے روز جس کی آمد میں کوئی شک نہیں جمع کرے گا تو ایک آواز لگانے والا آواز لگائے گا: جس نے اللہ کے لیے کیے ہوئے کسی عمل میں کسی غیر کو شریک کیا ہو وہ اس کا ثواب بھی اسی غیر اللہ سے طلب کرے،کیونکہ اللہ تعالیٰ شرک سے تمام شریکوں سے زیادہ بے نیاز ہے۔‘‘ ۴: ریاکاری آخرت کے عذاب کا سبب ہے،اسی لیے قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں سے جہنم بھڑکائی جائے گی وہ تین قسم کے لوگ ہوں گے: قاریٔ قرآن،مجاہد اور اپنے مال کا صدقہ کرنے والا۔انھوں نے اس لیے یہ اعمال انجام دیئے تھے تاکہ کہا جائے کہ ’’ فلاں قاری ہے،فلاں بڑا بہادر ہے اور فلاں بڑا سخی اور خیرات کرنے والا ہے۔‘‘ ان کے اعمال خالص اللہ کی رضا کے لیے نہ تھے۔[1] ۵: ریاکاری،ذلت و خواری اور پستی و رسوائی کا سبب ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: (( مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللّٰہُ بِہٖ،وَمَنْ یَرَاثِیْ اللّٰہ بِہٖ۔)) [2] ’’ جو شخص شہرت کے لیے کوئی عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے عیوب ظاہر کردے گا اور جو دکھاوے کے لیے عمل کرے گا اللہ اسے رسوا کردے گا۔‘‘ ۶: ریاکاری آخرت کے ثواب سے محروم کردیتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((بَشِّرْ ہَذہٖ الْأُمَّۃَ بِالسَّنَائِ[3] وَالدِّیْنِ،وَالرِّفْعَۃِ،وَالتَّمْکِیْنِ فِيْ
[1] دیکھئے: اس سلسلہ میں وارد حدیث صحیح مسلم میں ہے: کتاب الامارۃ،باب من قاتل للریاء والسمعۃ استحق النار: ۳/ ۱۵۱۴،حدیث: ۱۹۰۵۔ [2] متفق علیہ: صحیح بخاري،کتاب الرقاق،باب الریاء والسمعۃ: ۷/ ۲۴۲،حدیث: ۶۴۹۹۔صحیح مسلم،کتاب الزہد،باب من اشرک فی عملہ غیر اللّٰہ: ۴/ ۲۲۸۹،حدیث: ۲۹۸۶۔ [3] اس کے معنی رتبہ کی بلندی کے ہیں،کیونکہ ’’ سناء ‘‘ بلندی کو کہتے ہیں۔دیکھئے: المصباح المنیر: ۱/ ۲۹۳۔