کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 95
-۱- آخرت کو اپنا مطمۂ نظر بنانا دنیا میں رزق کے اسباب میں سے ایک یہ ہے، کہ بندہ (آخرت کو اپنا مطمۂ نظر اور اصلی مقصود بنالے۔) اس بارے میں ذیل میں دو عنوانات کے ضمن میں گفتگو ملاحظہ فرمائیے: ا: تین دلائل ب: ان دلائل کے حوالے سے دو باتیں ا: تین دلائل: ۱: امام ترمذی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مَنْ کَانَتِ الآخِرَۃُ ہَمَّہٗ جَعَلَ اللّٰہُ غِنَاہُ فِيْ قَلْبِہٖ ، وَجَمَعَ لَہٗ شَمْلَہٗ، وَأَتَتْہُ الدُّنْیَا، وَہِيَ رَاغِمَۃٌ…الحدیث۔‘‘[1] ’’جس شخص کا مطمۂ نظر آخرت ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں تونگری رکھ دیتے ہیں، اس کے بکھرے ہوئے معاملات سدھار دیتے ہیں اور دنیا اس کے پاس ذلیل و حقیر ہوکر آتی ہے۔‘‘ امام بزار کی روایت میں ہے: ’’مَنْ کَانَتْ نِیَّتَہُ الْآخِرَۃُ جَعَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی الْغِنٰی فِيْ قَلْبِہٖ، وَجَمَعَ لَہٗ شَمْلَہٗ، وَنَزَعَ الْفَقْرَ مِنْم بَیْنِ عَیْنَیْہِ، وَأَتَتْہُ الدُّنْیَا وَہِيَ [1] جامع الترمذي، أبواب صفۃ القیامۃ، باب، جزء من رقم الحدیث ۲۵۸۳، ۷/۱۳۹۔ شیخ البانی نے اسے (صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن الترمذي ۲/۳۰۰)۔