کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 91
اگر تو وطن سے ہجرت، اس خدشے کی وجہ سے ناپسند کرتا ہے، کہ تجھے پردیس کی مشقّتوں اور مصیبتوں کو جھیلنا پڑے گا، تَو تُو اس اندیشے کو اپنے دل و دماغ سے نکال دے۔ جہاں تو ہجرت کرکے جائے گا، وہاں تجھے اللہ تعالیٰ اتنی زیادہ نعمتیں اور اتنا بلند و بالا مقام عطا فرمائیں گے، کہ جنہوں نے تجھے وطن سے نکالا، وہ تیری اس حالت و کیفیت کو دیکھ کر ذلت اور رسوائی محسوس کریں گے اور ہجرت کرنا تیرے لیے رزق کی فراخی اور وسعت کا سبب بن جائے گا۔‘‘[1]  [1] التفسیر الکبیر 11/15.