کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 85
راضی اور خوش کرنا چاہے، وہ امت کے کمزور لوگوں کے ساتھ احسان کرے ۔ حضراتِ ائمہ احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن حبان اور حاکم حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ’’اِبْغُوْنِيْ فِيْ ضُعَفَآئِکُمْ، فَإِنَّمَا تُرْزَقُوْنَ وَتُنْصَرُوْنَ بِضُعَفَآئِکُمْ۔‘‘[1] ’’میری رضا اپنے کمزور لوگوں کے ساتھ احسان کرکے حاصل کرنے کی کوشش کرو، کیونکہ تمہیں اپنے کمزور و ضعیف لوگوں ہی کی وجہ سے رزق اور نصرت ملتی ہے۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ گرامی ’’اِبْغُوْنِيْ فِيْ ضُعَفَآئِکُم‘‘ کی شرح میں ملا علی قاری لکھتے ہیں: اپنے فقیر لوگوں کے ساتھ احسان کرکے میری خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرو ۔ اس سے رزق اور نصرت و تائید ملتی ہے۔[2] [1] المسند، رقم الحدیث ۲۱۷۳۱، ۳۶/۶۰ (ط: الرسالۃ)؛ وسنن أبي داود، کتاب الجہاد، باب في الانتصار برذل الخیل والضعفۃ، رقم الحدیث ۲۵۹۱، ۷/۱۸۳؛ وجامع الترمذي، أبواب الجہاد، باب ما جاء في الاستفتاح بصعالیک المسلمین، رقم الحدیث ۱۷۵۴، ۵/۲۹۱؛ وسنن النسائي، کتاب الجہاد، الاستنصار بالضعیف، ۶/۴۵۔۴۶؛ والإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب السیر، باب الخروج وکیفیۃ الجہاد، ذکر استحباب الانتصار بضعفآء المسلمین عند قیام الحرب علی ساق، رقم الحدیث ۴۷۶۷، ۱۱/۸۵؛ والمستدرک علی الصحیحین، کتاب الجہاد، ۲/۱۰۶۔ الفاظِ حدیث جامع الترمذي کے ہیں۔ محدثین نے اسے (ثابت] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: جامع الترمذي ۵/۲۹۲؛ والمستدرک ۲/۱۰۶؛ والتلخیص ۲/۱۰۶؛ وصحیح سنن أبي داود ۲/۴۹۲؛ وصحیح سنن الترمذي ۲/۱۴۰؛ وصحیح سنن النسائي ۲/۶۶۹؛ وسلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ ۲/۴۲۲۔۴۲۳)۔ [2] ملاحظہ ہو: مرقاۃ المفاتیح ۹/۹۹۔