کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 84
-۹- کمزوروں کے ساتھ احسان کرنا حصولِ رزق کے اسباب میں سے ایک (کمزور، ناتواں، بے آسرا اور بے سہارا لوگوں کے ساتھ احسان کرنا) ہے۔ دو دلائل: ۱: امام بخاری معصب بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’سعد رضی اللہ عنہ نے خیال کیا، کہ بے شک انہیں اپنے سے کمزور لوگوں پر برتری حاصل ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ہَلْ تُنْصَرُوْنَ وَتُرْزَقُوْنَ إِلَّا بِضُعَفَآئِکُمْ۔‘‘[1] ’’تمہاری مدد صرف تمہارے کمزوروں کی وجہ سے کی جاتی ہے اور انہی کی وجہ سے تمہیں رزق دیا جاتا ہے۔‘‘ پس جو شخص یہ پسند کرے، کہ دشمنوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ اس کی نصرت و تائید فرمائیں اور رزق کے دروازے اس پر کھول دیں، تو وہ کمزور، ناتواں، ضعیف، بے آسرا اور بے سہارا مسلمانوں کی عزت و تکریم کرے اور ان کے ساتھ بھلائی اور احسان کا سلوک روا رکھے۔ ۲: ایک دوسری حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا، کہ جو شخص انہیں [1] صحیح البخاري، کتاب الجہاد والسیر، باب من استعان بالضعفآء والصالحین في الحرب، رقم الحدیث ۱۰۸، ۱۴/۱۷۹۔ (المطبوع مع عمدۃ القاري)۔