کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 81
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شاید کہ تمہیں رزق اسی کی وجہ سے دیا جارہا ہے۔‘‘ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رزق کے لیے جدوجہد کرنے والے کو، جو کہ طلبِ علم میں مشغول اپنے بھائی کی شکایت لے کر آیا تھا، یہ بات سمجھائی ، کہ اپنے بھائی پر خرچ کرکے احسان جتلانا درست نہیں۔ وہ تو یہ خیال کر رہا تھا، کہ وہ محنت و مشقّت کرکے کما رہا تھا اور اس کا بھائی کام کاج سے فارغ بیٹھا صرف کھارہا تھا، لیکن اُسے علم نہیں تھا ، کہ شاید جو رزق اُسے میسر آرہا تھا، اس کی اصل وجہ طلبِ علم میں مشغول بھائی ہی ہو۔ شرحِ حدیث میں دو علماء کے اقوال: ۱: ملا علی قاری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قولِ مبارک ’’لَعَلَّکَ تُرْزَقُ بِہٖ‘‘کی شرح میں لکھتے ہیں: ’’( تُرْزَقُ) صیغہ مجہول ہے، اس سے مراد یہ ہے، کہ مجھے امید ہے یا اندیشہ ہے، کہ تجھے رزق ملنے کا سبب تیری ہنر مندی یا کاریگری نہیں، بلکہ تجھے تو اپنے طلبِ علم میں مشغول بھائی کی برکت کی وجہ سے رزق مل رہا ہے، لہٰذا تم اس پر اپنی ہنر مندی کا احسان نہ جتلاؤ۔‘‘[1] ۲: علامہ طیبی لکھتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول (شریف) ’’لَعَلَّکَ‘‘ میں وارد شدہ (لعلّ) کے بارے میں دو احتمال ہیں: ایک یہ کہ اس کا تعلق رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو، تو یہ قطعیت اور ڈانٹ ڈپٹ پر دلالت کرتا ہے، جس طرح ایک دوسری حدیث میں ہے: ’’فَہَلْ تُرْزََقُوْنَ إِلَّا بِضُعَفَآئِکُمْ۔‘‘ [2] ’’تمہیں فقط تمہارے کمزوروں کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے، کہ اس کا تعلق مخاطب سے ہو، تا کہ اسے غور و فکر کی ترغیب [1] مرقاۃ المفاتیح ۹/۱۷۱۔ [2] مکمل حدیث اس کتاب کے ص ۹۱پر ملاحظہ فرمایئے۔