کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 78
فَقَالَ لَہٗ: ’’یَا عَبْدَ اللّٰہِ! مَا اسْمُکَ؟‘‘ قَالَ: ’’’فُلَانٌ۔‘‘ لِلْاِسْمِ الَّذِيْ سَمِعَ فِيْ السَّحَابَۃِ۔ فَقَالَ لَہٗ: ’’یَا عَبْدَاللّٰہِ! لِمَ تَسْاَلُنِي عَنِ اسْمِيْ؟‘‘ فَقَالَ: ’’اِنِّيْ سَمِعْتُ صَوْتًا فِيْ السَّحَابِ الَّذِيْ ہٰذَا مَآؤُہٗ، یَقُولُ: ’’اسْقِ حَدِیقَۃَ فُلَانٍ۔‘‘ لِاسْمِکَ، فَمَا تَصْنَعُ فِیہَا؟‘‘ قَالَ: ’’اَمَّآ إِذْ قُلْتَ ہٰذَا، فَإِنِّیٓ أَ نْظُرُ اِلٰی مَا یَخْرُجُ مِنْہَا، فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِہٖ، وَآکُلُ أَ نَا وَعِیَالِيْ ثُلُثًا، وَأَرُدُّ فِیہَا ثُلُثَہٗ۔‘‘[1] ’’جب ایک شخص ایک بے آب و گیاہ کھلی جگہ میں تھا، اس نے بادل سے آواز سنی: ’’فلاں آدمی کے باغ کو سیراب کرو۔‘‘ بادل نے سیاہ پتھروں والی زمین کا رخ کیا اور وہاں برسا۔ پانی کے ایک نالے نے بادل کے سارے پانی کو اپنے اندر سمولیا۔ وہ آدمی پانی کے پیچھے پیچھے روانہ ہوا۔ اس نے دیکھا، کہ ایک آدمی اپنے باغ میں کھڑا کدال سے آنے والے پانی کو باغ میں داخل کر رہا ہے۔ اس نے کدال والے شخص سے پوچھا: ’’اے بندۂ رب! تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ اس نے جواب میں کہا: ’’فلاں!‘‘ اور وہ وہی نام تھا، جو اس نے بادل میں سنا تھا۔ باغ والے نے اس سے کہا: ’’اے بندۂ رب! تم نے میرے نام کے متعلق کیوں دریافت کیا ہے؟‘‘ [1] صحیح مسلم، کتاب الزہد والرقائق، باب الصدقۃ في المساکین، رقم الحدیث ۴۵۔ (۲۹۸۴)، ۴/۲۲۸۸۔