کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 73
یَعِدُکُمْ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَ فَضْلًا وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ}[1] (شیطان تمہیں محتاجی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کا حکم کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ تم سے اپنی جانب سے بخشش اور مہربانی کا وعدہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فراخی والے جاننے والے ہیں۔) اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ہے: ’’دو باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور دو شیطان کی طرف سے {اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ} [2] وہ کہتا ہے: اپنا مال خرچ نہ کرو، اسے اپنے پاس سنبھالے رکھو، کہ تمہیں اس کی ضرورت ہوگی {وَ یَاْمُرُکُمْ بِالْفَحْشَآئِ} اور وہ تمہیں بے حیائی کا حکم دیتا ہے۔ {وَ اللّٰہُ یَعِدُکُمْ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَ فَضْلًا} یعنی اللہ تعالیٰ تم سے اپنی طرف سے گناہوں کی معافی کا وعدہ فرماتے ہیں۔ {وَ فَضْلًا} اور رزق میں اضافے کا۔‘‘[3] آیت کی تفسیر میں قاضی ابن عطیہ لکھتے ہیں: ’’(مغفرت) سے مراد دنیا و آخرت میں بندوں کی سترپوشی ہے اور (فضل) سے مراد دنیا میں رزق کا میسر ہونا، اس میں کشادگی اور وسعت کا نصیب ہونا اور آخرت میں نعمتوں کا حاصل ہونا ہے۔ ان سب باتوں کا اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے والوں سے وعدہ فرمایا ہے۔‘‘[4] امام ابن قیم اس کی تفسیر میں تحریر کرتے ہیں: [1] سورۃ البقرہ / الآیۃ ۲۶۸۔ [2] (شیطان تمہیں محتاجی سے ڈراتا ہے۔] [3] تفسیر الطبري ۵/۵۷۱۔ نیز ملاحظہ ہو: التفسیر الکبیر ۷؍۶۴۔ ۶۵؛ وتفسیر الخازن ۱/۲۹۰۔ اس میں ہے: ’’مغفرت سے آخرت کے فوائد کی طرف اشارہ ہے اور {فَضْلًا} سے دنیا میں ملنے والے فوائد و ثمرات اور خرچ شدہ مال کے بدل کی طرف اشارہ ہے۔‘‘ [4] المحرّر الوجیز ۲/۳۲۹۔