کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 71
اس بات کی مزید وضاحت علامہ رازی ایک مثال سے بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’ایک تاجر کو علم ہے، کہ اُس کے مالوں میں سے ایک مال خراب اور برباد ہوجانے والا ہے۔ وہ اس مال کو ادھار بھی فروخت کردے گا، اگرچہ خریدار فقیر ہی کیوں نہ ہو۔ وہ کہے گا، کہ مال کی بربادی کی بجائے کچھ عرصہ ٹھہر کر اس کا معاوضہ وصول کرلینا بہتر ہے۔ اگر اُس نے وہ مال ادھار فروخت نہ کیا اور وہ برباد ہوگیا، تو سب کہیں گے، کہ اُس نے غلطی کی۔ پھر اگر ادھار مال فروخت کرنے کی صورت میں ضامن مالدار مل رہا ہو اور وہ پھر بھی مال فروخت نہ کرے اور مال برباد ہوجائے ، تو اُسے کم عقل سمجھا جائے گا۔ اگر بطورِ گروی اس کے پاس چیز رکھی جائے اور اس کے لیے رہن نامہ تحریر کیاجائے ، پھر بھی وہ نہ بیچے ، تو اُسے دیوانہ قرار دیا جائے گا۔‘‘[1] علامہ رازی مزید لکھتے ہیں: ’’یہ طرزِ عمل اختیار کرنے والے (یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والے) اس بات سے غافل ہیں، کہ ان کی یہ پالیسی دیوانگی کے قریب ہے۔ ہمارے سارے مال یقینا ختم ہونے والے ہیں۔ اہل و عیال پر خرچ کرنا قرض دینا ہے۔ اس قرض کی واپسی کے ضامن عظمتوں کے مالک اللہ تعالیٰ ہیں، جنہوں نے فرمایا ہے: {وَ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَہُوَ یُخْلِفُہٗ} ’’اور تم لوگ (اللہ تعالیٰ کی راہ میں) جو کچھ خرچ کرو، وہ اس کا بدلہ دیں گے۔‘‘ پھر یہ بات بھی (قابلِ غور) ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے پاس کچھ نہ کچھ، زمین، باغ، چکی، حمام یا کوئی نہ کوئی منفعت بخش چیز بطور گروی رکھی ہے، کیونکہ ہر شخص کا کوئی نہ کوئی ذریعہ معاش ہے۔ یہ سب چیزیں تو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور [1] التفسیر الکبیر ۲۵/۲۶۳۔