کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 51
’’اے آدم کے بیٹے! میری عبادت کے لیے اپنے آپ کو فارغ کرو، میں تیرے سینے کو تونگری سے بھر دوں گا اور لوگوں سے تجھے بے نیاز کردوں گا۔ اور اگر تو نے ایسے نہ کیا، تو میں تیرے ہاتھ (بے کار) کاموں میں اُلجھا دوں گا اور (لوگوں کی طرف )تیری محتاجی کو ختم نہیں کروں گا۔‘‘ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو خبر دی ہے، کہ پوری توجہ اور دھیان سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو انعامات ملنے کا وعدہ ہے: پہلا انعام:دل کو تونگری سے بھر دینا۔ دوسرا انعام: لوگوں سے بے نیاز فرما دینا۔ اسی حدیث میں توجہ اور دھیان سے عبادت نہ کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو سزائیں ملنے کی وعید بھی ہے: پہلی سزا: بے کار کاموں میں اُلجھا دینا۔ دوسری سزا: لوگوں سے محتاجی کا ختم نہ کرنااور ہمیشہ لوگوں کا دست ِنگر اور محتاج رہنے دینا۔ ۲: امام حاکم نے حضرت مَعقَل بن یَسار رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یَقُوْلُ رَبُّکُمْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: ’’یَا ابْنَ آدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِیْ أَمْلَأْ قَلْبَکَ غِنًی، وَأَمْلَأْ یَدَیْکَ رِزْقًا۔ یَا ابْنَ آدَمَ! لَا تُبَاعِدْ مِنِّيْ فَأَمْلَٔأْ قَلْبَکَ فَقْرًا، وَأَمْلَٔأْ یَدَیْکَ شُغْلًا۔‘‘[1] ’’تمہارے رب تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: [1] المستدرک علی الصحیحین، کتاب الرقاق ۴/۳۲۶۔ امام حاکم نے اس کی (سند کو صحیح] قرار دیا ہے اور حافظ ذہبی نے ان سے موافقت کی ہے اور شیخ البانی نے ان دونوں کی تائید کی ہے۔ (ملاحظہ ہو: ۴/۳۲۶؛ والتلخیص ۴/۳۲۶؛ وسلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ ۳/۳۴۷)۔