کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 49
-۴- اللہ عزوجل کی عبادت کے لیے فارغ ہونا رزق کے اسباب میں سے ایک (بندے کا اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے فارغ ہونا) ہے۔ توفیقِ الٰہی سے درجِ ذیل دو عنوانوں کے تحت اس بارے میں گفتگو ہوگی۔ ا: اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے فارغ ہونے کا مفہوم ب: اللہ تعالیٰ کی عبادت کی خاطر فراغت کے باعثِ رزق ہونے کی دو دلیلیں ا: اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے فارغ ہونے کا مفہوم: اس سے یہ مراد نہیں، کہ بندہ دن رات مسجد میں بیٹھا رہے اور حصولِ رزق کے لیے کوئی کوشش نہ کرے، بلکہ اس کا معنٰی یہ ہے، کہ جب اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، تو اس کا قلب و قالب (یعنی اس کا دل اور جسم) دونوں حاضر ہوں۔ عبادت میں خشوع و خضوع ہو۔ ربِّ ذوالجلال کی عظمت و کبریائی اس کے دل میں جاگزیں ہو۔ اسے اس بات کا ادراک و احساس ہو، کہ وہ کائنات کے مالک اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ گرامی: ’’اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ۔‘‘ ’’اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو، کہ گویا تم انہیں دیکھ رہے ہو۔‘‘ کی عملی تصویر ہو۔ اگر اس کیفیت کو نہ پاسکے، تو یہ تو ہو: ’’فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ، فَإِنَّہٗ یَرَاکَ۔‘‘[1] [1] ملاحظہ ہو: صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب بیان الإیمان والإسلام والإحسان…، جزء من رقم الحدیث ۱۔ (۸)، ۱/۳۷۔