کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 48
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس کے گھٹنے کو باندھو اور توکل کرو۔‘‘ امام قضاعی کی روایت کردہ حدیث میں ہے، کہ عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ’’یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أُقَیِّدُ رَاحِلَتِيْ، وَأَ تَوَکَّلُ عَلَی اللّٰہِ، أَوْ أُرْسِلُہَا، وَأَتَوَکَّلُ؟‘‘ ’’اے اللہ کے رسول! میں اپنی سواری کو پابہ زنجیر کروں (باندھوں) اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کروں یا سواری کو کھلا چھوڑ دوں اور توکل کروں؟‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قَیِّدْہَا وَتَوَکَّلْ۔‘‘ [1] ’’سواری کو پابہ زنجیر کرو اور توکل کرو۔‘‘ بات کا خلاصہ یہ ہے، کہ توکل کا معنٰی حصولِ رزق کے لیے دوڑ دھوپ کا ترک کرنا نہیں۔ مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے، کہ وہ رزق حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرے، لیکن اُس کا بھروسہ اپنی محنت و مشقت پر نہ ہو، بلکہ ربِّ ذوالجلال پر ہو۔ وہ اس بات کا اعتقاد رکھے، کہ سب معاملات اُنہی کے ہاتھ میں ہیں اور رزق صرف اور صرف اُنہی کی طرف سے ہے۔  [1] مسند الشہاب ’’ قَیِّدْہَا وَتَوَکَّلْ۔‘‘ رقم الحدیث ۶۳۳، ۱/۳۶۸۔