کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 45
’’مِنّ کُلِّ مَا ضَاقَ عَلَی النَّاسِ۔‘‘[1] ’’(اللہ تعالیٰ اس کے لیے) ہر اس چیز کے مقابلے میں (کافی ہوجاتے ہیں)، جو لوگوں کے لیے تنگی کا سبب بنتی ہے۔‘‘ ج: کیا توکل سے مراد رزق کے لیے کوشش کا چھوڑنا ہے؟ شاید بعض ناسمجھ لوگ کہیں، کہ جب توکل کرنے والے کو ضرور رزق ملتا ہے، تو ہم حصولِ رزق کی خاطر جدوجہد اور محنت و مشقت کیوں کریں؟ کیوں نہ ہم مزے سے بیٹھے رہیں، کہ توکل کی وجہ سے ہم پر آسمان سے رزق نے تو خود ہی نازل ہوجانا ہے؟ ان لوگوں کی یہ بات توکل کے بارے میں ان کی بے علمی پر دلالت کرتی ہے۔ اگر یہ لوگ مذکورہ بالا حدیث پر غور کرتے، تو ایسی بات نہ کہتے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ پر کماحقہ اعتماد کرنے والوں کو اُن پرندوں سے تشبیہ دی ہے، جو صبح سُویرے خالی پیٹ اللہ تعالیٰ کے رزق کی تلاش میں نکلتے اور شام کو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پیٹ بھر کر اپنے گھونسلوں کی طرف پلٹتے ہیں، حالانکہ ان پرندوں کی دکانیں، فیکٹریاں، ملازمتیں یا کھیت نہیں ہوتے، جن پر وہ رزق کے حصول کی غرض سے اعتماد کرتے ہیں۔ طلبِ رزق کی جدو جہد میں ان کا کلی اعتماد صرف ایک اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے۔ ربِّ کریم علمائے امت کو جزائے خیر دیں، کہ انہوں نے اس بات کو پہلے ہی سے خوب واضح کر دیا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر امام احمد لکھتے ہیں: ’’حدیث میں یہ بات تو نہیں، کہ حصولِ رزق کے لیے کوشش نہ کی جائے، بلکہ وہ تو اس بات پر دلالت کرتی ہے، کہ رزق حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی جائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصودیہ ہے، کہ اگر ان کے آنے جانے اور سعی و کوشش کے پسِ منظر میں یہ یقین ہو، کہ ہر طرح کی خیر صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، تو وہ ضرور اسی طرح خیر و برکات اور [1] شرح السنۃ ۱۴/۲۹۸۔