کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 44
’’اگر تم اللہ تعالیٰ پر اسی طرح بھروسہ کرتے ہوتے، جیسا کہ ان پر بھروسہ کرنے کا حق ہے، تو تم اسی طرح رزق دیے جاتے جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔ صبح خالی پیٹ نکلتے اور شام کو پیٹ بھر کر پلٹتے ہیں۔‘‘ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو اس بات کی خبر دی ہے، کہ اللہ تعالیٰ پر کماحقہ بھروسہ کرنے والوں کو اسی طرح رزق عطا کیا جاتا ہے، جس طرح پرندوں کو رزق مہیا کیا جاتا ہے اور ایسے کیوں نہ ہو؟ اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والے نے اس عظیم، منفرد، یکتا اور کائنات کے مالک پر بھروسہ کیا، جن کے (کُنْ) کہنے سے سب کچھ ہوجاتا ہے۔ {اِِنَّمَآ اَمْرُہٗٓ اِِذَآ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ}[1] (ان کی تو شان یہ ہے، کہ جب کوئی چیز (بنانا) چاہتے ہیں، تو اس سے فرما دیتے ہیں ہوجا، تو وہ ہوجاتی ہے۔) جس نے ان پر اعتماد کیا، تو وہ تنہا اس کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے خود ہی بتلایا ہے: {وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ اِِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْئٍ قَدْرًا}[2] (اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے وہ اس کو کافی ہیں۔ یقینا اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرنے والے ہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کیا ہے۔) اس کی تفسیر میں حضرت ربیع بن خُثَیْم بیان کرتے ہیں: [1] سورۃ یٰس / الآیۃ ۸۲۔ [2] سورۃ الطلاق / جزء من رقم الآیۃ ۳۔