کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 34
-۲- تقویٰ رزق کے اسباب میں سے ایک (تقویٰ) ہے۔ اس کے متعلق گفتگو درج ذیل دو عنوانات کے تحت ملاحظہ فرمائیے: ا: تقویٰ کا مفہوم ب: تقویٰ کے رزق کا سبب ہونے کی دو دلیلیں ا: تقویٰ کا مفہوم: تین علماء کے اقوال: علمائے امت نے تقویٰ کا مفہوم خوب وضاحت کے ساتھ بیان کردیا ہے۔ ذیل میں اُن میں سے تین کے اقوال ملاحظہ فرمائیے: ۱: علامہ راغب اصفہانی نے تقویٰ کی تعریف ان الفاظ میں بیان کی ہے: ’’حِفْظُ النَّفْسِ عَمَّا یُؤْثِمُ، وَذٰلِکَ بِتَرْکِ الْمَحْظُوْرِ۔ وَیَتِمُّ ذٰلِکَ بِتَرْکِ بَعْضِ الْمُبَاحَاتِ۔‘‘[1] ’’گناہ سے نفس کو بچائے رکھنا اور اس کے لیے ممنوعہ باتوں کو چھوڑا جاتا ہے اور اس کی تکمیل کی غرض سے کچھ جائز امور کو بھی ترک کیا جاتا ہے۔‘‘ ۲: ۱مام نووی لکھتے ہیں: ’’اِمْتِثَالُ أَمْرِہٖ وَنَہْیِہٖ ، وَمَعْنَاہُ: الْوِقَایَۃُ مِنْ سَخَطِہٖ وَعَذَابِہٖ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالَی۔‘‘[2] [1] المفردات فی غریب القراٰن، مادۃ ’’ وقی‘‘ ص ۵۳۱۔ [2] تحریر ألفاظ التنبیہ ص ۳۲۲۔