کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 30
(اور اے میری قوم! اپنے رب سے (گزشتہ) گناہوں کی معافی طلب کرو، پھر (آئندہ گناہ کرنے سے) توبہ کرو۔ وہ تم پر آسمان سے خوب زور کا مینہ برسائیں گے اور تمہاری قوت میں مزید اضافہ کریں گے اور گنہگار ہوکر پھر نہ جاؤ۔) حافظ ابن کثیر اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’پھر انہوں (حضرت ہود علیہ السلام ) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ سے سابقہ گناہوں کی معافی طلب کرنے کا حکم دیا، کہ اِس سے سابقہ خطائیں مٹ جاتی ہیں؛ نیز اس بات کی تلقین کی، کہ آئندہ گناہوں سے باز رہیں اور جس کسی میں (استغفار و توبہ کی) خوبی پیدا ہوجائے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے رزق کا حصول سہل کردیتے ہیں، اس کے معاملے میں آسانی پیدا فرما دیتے ہیں اور اس کی حفاظت فرماتے ہیں۔ اسی لیے فرمایا: {یُّرْسِلِ السَّمَآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا}‘‘[1] اے ہمارے اللہ کریم! ہمیں توبہ و استغفار کی نعمت سے نواز دیجیے اور پھر ہمارے لیے رزق کا حصول سہل فرما دیجیے۔ ہمارے معاملات میں آسانیاں پیدا فرمادیجیے اور ہمارے سب کاموں میں ہمارے حامی و ناصر ہوجائیے۔ آپ فریادوں کو سننے اور پورا فرمانے والے ہیں۔ آمین یَا ذَالْجَلَالِ وَالإِکْرَامِ۔ ۳: اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے: {وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ یُمَتِّعْکُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ یُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہٗ وَ اِنْ [1] تفسیر ابن کثیر ۲/۴۹۲۔ نیز ملاحظہ ہو: تفسیر القرطبي ۹/۵۱۔