کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 23
آئندہ نہ کرنے کا عزم کرنا، اور جن اعمال کی تلافی، ان کے دوبارہ ادا کرنے سے ہوسکے، ان کے لیے بقدرِ استطاعت کوشش کرنا ہے۔ اور جب یہ چاروں باتیں جمع ہوجائیں، تو )توبہ) کی شرائط پوری ہوگئیں۔‘‘[1] علامہ راغب اصفہانی (استغفار) کے متعلق رقم طراز ہیں: ’’(استغفار) قول و فعل دونوں سے گناہوں کی معافی طلب کرنے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے: {اِسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا} [2] ’’تم اپنے رب سے گناہوں کی معافی طلب کرو، وہ گناہوں کو بہت زیادہ معاف کرنے والے ہیں۔‘‘ اس ارشاد میں صرف زبان ہی سے گناہوں کی معافی طلب کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، بلکہ زبان اور عمل دونوں کے ساتھ معافی طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عمل کے بغیر فقط زبان سے گناہوں کی معافی طلب کرنا بہت بڑے جھوٹوں کا شیوہ ہے۔‘‘[3] ۲: امام نووی نے قلم بند کیا ہے: ’’علماء نے کہا ہے: ہر گناہ سے توبہ کرنا واجب ہے، اگر اس گناہ کا تعلق صرف بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہو، کسی اور آدمی سے اس کا تعلق نہ ہو، تو اس گناہ سے توبہ کے لیے حسبِ ذیل شرائط ہیں: ۱:اس گناہ کو چھوڑ دے۔ ۲:اس پر نادم ہو۔ [1] المفردات فی غریب القرآن، مادہ ’’توب‘‘ ص ۷۶۔ [2] سورۃ نوح ـ علیہ السلام ـ جزء من رقم الآیۃ ۱۰۔ [3] المفردات فی غریب القرآن، مادہ ’’توب‘‘ ص ۳۶۲۔