کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 184
نے کہا: ’’(اب) تم خوف نہ کرو۔ ظالموں سے بچ کر نکل آئے ہو۔‘‘ دونوں میں سے ایک نے کہا: ’’ اے میرے باپ! اسے اُجرت پر رکھ لیجئے، (کیونکہ) سب سے بہتر شخص، جسے آپ اُجرت پر رکھیں، طاقت ور امانت دار ہی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’میں اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح، اس شرط پر، آپ سے کر دینا چاہتا ہوں، کہ آٹھ سال میرے پاس ملازمت کریں گے۔ اگر آپ نے دس سال پورے کر دیئے، تو وہ آپ کی جانب سے (میرے ساتھ بھلائی) ہو گی۔ اور میں آپ پر مشقّت نہیں ڈالنا چاہتا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا، تو آپ مجھے اچھے لوگوں میں سے پائیں گے۔‘‘ انہوں (یعنی موسیٰ علیہ السلام ) نے کہا: ’’یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے پا گئی۔ دونوں مدّتوں میں سے، جسے بھی میں پوری کروں، مجھ پر کوئی زیادتی نہیں ہو گی اور ہم دونوں جو بات طے کر رہے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نگہبان ہیں‘‘)۔ رزق کی خاطر ملازمت کے لیے سرگرداں اور پریشانِ حال لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دُعا کو لازم کریں۔ جس اللہ کریم نے پردیس اور بے سروسامانی کے عالَم میں سفارش اور رشوت کے بغیر موسیٰ علیہ السلام کو روزی اور بیوی، دونوں نعمتوں سے بیک وقت، سر فراز فرمایا ، وہ اب بھی یہ سب کچھ کرنے پر قدرت رکھتے ہیں۔ {سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیلًا} [1] (اللہ تعالیٰ کی سنت، جو کہ پہلے گزر چکی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔) [1] سورۃ الفتح / الآیۃ ۲۳۔