کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 182
شَیْئٍ}[1] ( اور کیا ہم نے انہیں ایک با امن حرم میں جگہ نہیں دی، جس کی طرف ہر چیز (یعنی قسم) کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں۔) ب: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سے پہلے جملے میں اپنی گزارش کا آغاز (رَبَّنَا) سے کیا۔ اب صرف اسی جملے سے اپنی اولاد کے لیے رزق طلب کرنے والا آغاز میں (رَبَّنَا)کا اضافہ کرے اور سابقہ جملے سے رابطہ ختم کر نے کی خاطر (فَا)کے بغیر یوں دُعا کر لے: (رَبَّنَا{اجْعَلْ اَفْئِدَ ۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِیْٓ اِلَیْہِمْ وَ ارْزُقْہُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُوْنَ}) واللّٰہ تعالیٰ أعْلَمُ۔ ب: موسیٰ علیہ السلام کی دُعا: حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کی گرفت سے بچنے کی خاطر بے سروسامانی کے عالَم میں اس کی حدودِ سلطنت سے نکل کر مدین پہنچے۔ ایک کنویں پر دو لڑکیوں کو اپنی بکریوں سمیت الگ تھلگ دیکھ کر ازراہِ تعجب اُن کی حالت کے متعلق دریافت کیا۔ آگاہی پر اُن کی بکریوں کو پانی پلایا اور پھر درخت کے سائے تلے آ کر اللہ تعالیٰ سے درجِ ذیل الفاظ کے ساتھ التجا کی: {رَبِّ اِنِّیْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ}[2] (اے میرے رب! آپ جو خیر بھی میری جانب نازل فرمائیں، بلاشبہ میں اس کا محتاج ہوں) ڈاکٹر محمد لقمان سلفی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں: [1] سورۃ القصص/ جزء من رقم الآیۃ ۵۷۔ [2] سورۃ القصص / جزء من رقم الآیۃ ۲۴۔