کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 179
’’ ارشادِ باری تعالیٰ {لَاَسْقَیْنَاھُمْ مَآئً غَدَقًا} (یقینا ہم انہیں وافر پانی پلاتے) (دین پر استقامت کی وجہ سے دنیا میں اچھے بدلے کا وعدہ) اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی علامت اور آخرت کے ثواب کی بشارت ہے۔‘‘[1] پہلی حقیقت یہ ہے، کہ امتوں اور جماعتوں کو اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والے منفرد راستے پر استقامت اور خوشحال زندگی میں باہمی ربط ہے۔ یہ ارتباط اب بھی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔ عرب صحراء میں تنگ دستی کی زندگی بسر کرتے تھے، انہوں نے راہِ حق پر استقلال اختیار کیا، تو ان کے لیے وافر پانی اور کشادہ رزق والی زمین سر نگوں کر دی گئی۔ پھر جب وہ راہِ حق سے ہٹے، تو خوش حالی سے بُری طرح محروم کر دیئے گئے۔ [2] ’’اللہ تعالیٰ کا یہ مشروط وعدہ سب لوگوں اور ہر زمانے اور ہر جگہ کے لیے ہے۔‘‘ [3] خلاصہ گفتگو یہ ہے، کہ اگر لوگ راہِ حق پر استقلال و استقامت سے کار بند ہو جائیں۔ زندگی کے ہر پہلو اور گوشے: اعتقادات، عبادات، معاملات، اخلاق میں، سماجی، اجتماعی، معاشی، سیاسی، انفرادی، اجتماعی، غرضیکہ ہر قسم کی زندگی اور ہر قسم کے حالات: خوشی اور غمی، قوت و ضعف، صحت و مرض ، تونگری اور تنگدستی، بالا دستی اور زیردستی، سفر و حضر، امن اور جنگ، غرضیکہ ہر قسم کی صورتِ حال میں رب العالمین کی [1] التحریر والتنویر ۲۹/۲۳۸۔ [2] ملاحظہ ہو: في ظلال القرآن ۶/۳۷۳۴۔ [3] ھامش أیسر التفاسیر ۵/۴۵۲۔