کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 175
بَلَدٍ یَّکُوْنُ أَعَمَّ نَفْعًا مِّنْ أَضْعَافِہٖ اَلْقَطْرَ إِذَا عَمَّتْہُ) [1] (شہروں میں اقامتِ حد کے حکم کا ذکر، کیونکہ شہر میں حد کا قائم کرنا، اس کی ہر جانب میں ہونے والی بارش سے، کئی گنا زیادہ وسیع نفع والی ہے)۔ ۲: دوسری حدیث کی شرح میں علامہ سیوطی کا بیان: ’’(خَیْرٌ لِّأَھْلِ الْأَرْضِ) أَيْ أَکْثَرُ بَرَکَۃً فِيْ الرِّزْقِ وَغَیْرہٖ مِنَ الثِّمَارِ وَالْأَنْہَارِ‘‘[2] ((اہلِ زمین کے لیے بہتر ہے) یعنی رزق اور اس کے علاوہ پھلوں اور نہروں میں زیادہ برکت والی ہے)۔ ۳: اقامت ِحد کی خیر و برکت کا سبب: علامہ طیبی اقامتِ حد کی اس خیر و برکت کا سبب بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’ وَذٰلِکَ أَنَّ فِیْٓ إِقَامَتِھَا زَجْرًا لِّلْخَلْقِ عَنِ الْمَعَاصِيْ وَالذُّنُوْبِ ، وَسَبَبًا لِّفَتْحِ أَبْوَابِ السَّمَآئِ وَإِرْخَآئِ غِرَابِھَا، وَفِي الْقُعُوْدِ عَنْہَا وَالتَّھَاوُنِ بِہَآ اِنْہِمَاکٌ لَّہُمْ فِيْ الْمَعَاصِیْ، وَذٰلِکَ سَبَبٌ لِّأَخْذِ ھِمْ بِالسِّنِیْنِ وَالْجَدْبِ وَإِھْلِاَکِ الْخَلْقِ‘‘[3] (اور یہ اس لیے ہے، کیونکہ انہیں قائم کرنا، مخلوق کو نافرمانیوں اور گناہوں سے روکنے اور آسمان کے دروازوں کو خوب اچھی طرح کھولنے کا سبب ہے۔ انہیں چھوڑنے اور ان کے متعلق لاپروائی میں لوگوں کو نافرمانیوں [1] الإحسان في تقریب صیح ابن حبان ۱۰/۲۴۴۔ [2] شرح السّیوطي ۸/۷۶۔ [3] شرح الطیبي ۸/۲۵۲۹۔