کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 173
-۱۸- حدود کا قیام رزق کے اسباب میں سے ایک (اللہ تعالیٰ کی زمین پر حدود کا قائم کرنا) ہے۔ اس بارے میں مندرجہ ذیل دو عنوانات کے تحت تفصیل ملاحظہ فرمایئے: ا: تین روایات ب: ان روایات کے حوالے سے تین باتیں ا: تین روایات: ۱: امام ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، کہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’إِقَامَۃُ حَدٍّ مِّنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنْ مَطَرِ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً فِيْ بِلَادِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔‘‘[1] (اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کا قائم کرنا، اللہ عزوجل کے شہروں میں چالیس رات کی بارش سے بہتر ہے۔) ۲: حضراتِ ائمہ احمد، نسائی، ابن ماجہ اور ابن حبان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’حدٌّ یُّعْمَلُ بِہٖ فِيْ الْأَرْضِ خَیْرٌ لِّاَہْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ یُّمْطَرُوْٓا أَرْبَعِیْنَ صَبَاحًا۔‘‘[2] (زمین میں (ایک) حد کا قائم کیا جانا، اہلِ زمین کے لیے چالیس دن [1] سنن ابن ماجہ، أبواب الحدود، باب إقامۃ الحدود ،رقم الحدیث ۲۵۳۷، ص ۴۲۴۔ شیخ عصام نے اسے (حسن لغیرہ] قرار دیا ہے۔ (ہامش سنن ابن ماجہ ص ۴۲۴)۔ نیز ملاحظہ ہو: صحیح سنن ابن ماجہ ۲/۷۸۔ [2] المسند، رقم الحدیث ۹۲۱۵، ۱۸/۲۹ (ط۔ مصر)؛ وسنن النسائي، کتاب قطع السارق، الترغیب في إقامۃ الحد، ۸/۷۵۔۷۶؛ وسنن ابن ماجہ، أبواب الحدود، باب إقامۃ الحدود، رقم الحدیث ۲۵۳۸، ص ۴۲۴؛ والإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب الحدود، رقم الحدیث ۴۳۹۸، ۱۰/۲۴۴۔ الفاظِ حدیث سنن ابن ماجہ کے ہیں۔ المسند اور سنن النسائي میں (ثَـلَاثین صَباحًا] (تیس دن] کے الفاظ ہیں۔ شیخ البانی اور شیخ عصام نے اسے (حسن لغیرہ] کہا ہے۔ ڈاکٹر الحسینی عبد المجید ہاشم نے المسند کی (سند کو صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب والترہیب ۲/۵۸۹۵؛ وہامش سنن ابن ماجہ، ص ۴۲۴؛ وہامش المسند ۱۸/۲۹)۔