کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 165
ایک دوسری روایت میں ہے: انہوں نے فرمایا: ’’اُنْظُرْ یَا بُنَيَّ! دَیْنِيْ، فَإِنِّيْ لَآ أَدَعُ شَیْئًا أَہَمُّ إِلَيَّ مِنْہُ۔‘‘[1] (میرے چھوٹے سے (یعنی پیارے) بیٹے! میرے قرض کا معاملہ دیکھنا، کیونکہ میری نگاہ میں، میں اپنے پیچھے اس سے زیادہ اہمیت والی بات چھوڑ کر نہیں جارہا۔) (اے میرے چھوٹے سے (یعنی پیارے) بیٹے! ہمارے مال کو فروخت کرکے قرض ادا کرنا۔) (اگر اس حوالے سے کسی بارے میں بے بس ہوجاؤ، تو میرے مولا (یعنی اللہ تعالیٰ) سے مدد طلب کرنا۔) ب: سچے ارادے کی برکت سے بظاہر بہت مشکل قرض کی واپسی: حسبِ ذیل باتوں کو پیشِ نظر رکھنے سے توفیقِ الٰہی سے صورتِ حال کا تصور کرنا آسان ہوگا: [1] فتح الباري ۶/۲۲۹۔