کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 164
نے کہا: ’’(اب) ہماری میراث ہمارے درمیان تقسیم کردیجیے۔‘‘ انہوں (عبداللہ) نے جواب میں کہا: ’’لَا، وَاللّٰہِ! لَآ أُقْسِمُ بَیْنَکُمْ حَتّٰی أُنَادِيَ بِالْمَوْسِمِ أَرْبَعَ سِنِینَ: ’’أَ لَا مَنْ کَانَ لَہُ عَلَی الزُّبَیْرِ دَیْنٌ فَلْیَأْتِنَا، فَلْنَقْضِہٖ۔‘‘ (نہیں، واللہ! میں تمہارے درمیان (میراث) تقسیم نہیں کروں گا، یہاں تک، کہ میں چار سال تک موسم (یعنی حج کے ایام) میں (یہ)اعلان نہ کرلوں: ’’سنو! جس کسی کا زبیر۔ رضی اللہ عنہ ۔ کے ذمے قرض ہو، وہ ہمارے پاس آئے، تو ہم اسے ادا کردیں گے۔‘‘) انہوں (راوی) نے بیان کیا: ’’وہ ہر سال موسم میں اعلان کرتے رہے۔ جب چار سال گزر گئے، تو اُنہوں نے اُن کے درمیان (میراث) تقسیم کردی۔‘‘ انہوں (راوی) نے بیان کیا: ’’زبیر رضی اللہ عنہ کی چار بیویاں تھیں۔ انہوں (یعنی عبد اللہ) نے (حسبِ وصیت) تہائی حصہ (قرض کے بعد بچی ہوئی رقم سے) نکال لیا تھا۔ پھر ہر بیوی کے حصے میں بارہ بارہ لاکھ کی رقم آئی۔‘‘[1] اس واقعہ سے معلوم ہونے والی متعدد باتوں میں سے دو درجِ ذیل ہیں: ا: حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا قرض کی ادائیگی کا اہتمام اور فکر: اس بات پر دلالت کرنے والی باتوں میں سے تین حسبِ ذیل ہیں: [1] صحیح البخاري، کتاب فرض الخمس، باب برکۃ الغازي في مالہ حیا ومیتا مع النبي صلي اللّٰه عليه وسلم وولاۃ الأمر، رقم الحدیث ۳۱۲۹ باختصار، ۶/۲۲۷۔ ۲۲۸۔