کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 162
حکیم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’وَاللّٰہِ! مَآ أَرٰٓی أَمْوَالَکُمْ تَسَعُ لِہٰذِہٖ۔‘‘ (واللہ! میں نہیں سمجھتا، کہ تمہارے مال اس (کی ادائیگی) کے لیے کافی ہیں۔) عبد اللہ نے اُن سے کہا: ’’أَرَأَ یْتُکَ إِنْ کَانَتْ أَلْفَيْ أَلْفٍ وَمِائَتِيْ أَلْفٍ؟‘‘ (اگر وہ بائیس لاکھ ہو، تو پھر آپ کی کیا رائے ہوگی؟) انہوں نے جواب دیا: ’’مَآ أُرَاکُمْ تُطِیقُونَ ہٰذَا، فَإِنْ عَجَزْتُمْ عَنْ شَیْئٍ مِنْہُ، فَاسْتَعِینُوْا بِيْ۔‘‘ (میں نہیں سمجھتا، کہ تم اس (کے ادا کرنے) کی استطاعت رکھتے ہو۔ سو اگر تم اس سلسلے میں کسی چیز کے بارے میں بے بس ہوجاؤ، تو مجھ سے تعاون طلب کرلینا۔) انہوں (عبداللہ) نے بیان کیا: ’’زبیر رضی اللہ عنہ نے غابہ کی جائیداد ایک لاکھ ستر ہزار میں خریدی تھی، عبد اللہ نے اسے سولہ لاکھ میں فروخت کیا۔‘‘ پھر انہوں (عبد اللہ) نے اعلان کیا: ’’زبیر رضی اللہ عنہ کے ذمے جس کا قرض ہو، وہ غابہ میں آکر ہم سے مل لے۔‘‘ چنانچہ عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ آئے… اور ان کے زبیر رضی اللہ عنہ کے ذمے چار لاکھ تھے… انہوں نے عبد اللہ سے کہا: ’’اگر تم چاہو، تو میں یہ قرض چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘