کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 160
میں سے (ایک بات) میرے قرض کا معاملہ ہے۔کیا تم سمجھتے ہو، کہ قرض ادا کرنے کے بعد، ہمارے مال میں سے کوئی چیز بچے گی؟‘‘) انہوں نے (مزید) فرمایا: ’’یَا بُنَيَّ! بِعْ مَالَنَا، فَاقْضِ دَیْنِيْ۔‘‘ وَأَوْصٰی بِالثُّلُثِ۔ وَلَہُ یَوْمَئِذٍ تِسْعَۃُ بَنِینَ وَتِسْعُ بَنَاتٍ۔ (’’اے میرے چھوٹے سے (یعنی پیارے) بیٹے! ہمارے مال کو فروخت کرکے میرا قرض ادا کرنا۔‘‘ اور انہوں نے (قرض کی ادائیگی کے بعد بچنے والے مال کے) ایک تہائی کی وصیت کی۔ اس وقت اُن کے نو بیٹے اور نو بیٹیاں تھیں۔) عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ’’فَجَعَلَ یُوْصِیْنِيْ بِدَیْنِہٖ، وَیَقُولُ: ’’یَا بُنَيَّ! إِنْ عَجَزْتَ عَنْہُ فِيْ شَیْئٍ فَاسْتَعِنْ عَلَیْہِ مَوْلَايَ۔‘‘ (پھر وہ اپنے قرض کے بارے میں مجھے وصیت فرماتے رہے۔ (دورانِ گفتگو ہی) فرمانے لگے: ’’اگر اس (یعنی قرض کی ادائیگی) کی کسی چیز کے بارے میں بے بس ہوجاؤ، تو اس سلسلے میں میرے مولا سے مدد طلب کرنا۔‘‘) انہوں نے بیان کیا: ’’واللہ! میں ان کا مقصود سمجھ نہ سکا، تو میں نے عرض کیا: ’’یَآ أَبَتِ! مَنْ مَّوْلَاکَ؟‘‘ (اے میرے ابا! آپ کے مولا کون ہیں؟) اُنہوں نے فرمایا: ’’اللہ (جل جلالہ)۔‘‘