کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 156
کرنا ہو۔ علامہ مظہر بیان کرتے ہیں: ’’فَمَنْ رَاعٰی سُنَّۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَجِدْ بَرَکَۃً عَظِیْمَۃً فِيْ الدُّنْیَا، وَأَجْرًا عَظِیْمًا فِي الْآخِرَۃِ۔‘‘[1] (پس جس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (پر عمل پیرا ہونے) کا اہتمام کیا، تو وہ دنیا میں عظیم برکت اور آخرت میں عظیم اجر پائے گا۔‘‘ حافظ ابن حجر نے قلم بند کیا ہے، کہ غلّے میں ماپ تول کرنے سے برکت، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل سے حاصل ہوتی ہے، اور جب اس بارے میں حکم عدولی کی جاتی ہے، تو نافرمانی کی نحوست کی بنا پر برکت کھینچ لی جاتی ہے۔ حضرت حافظ رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں، کہ برکت صرف ماپ تول سے حاصل نہیں ہوتی ہے، بلکہ اس کے ساتھ ماپ تول کے حکم کی تعمیل (کی نیت بھی) شامل ہوتی ہے۔[2] گفتگو کا خلاصہ یہ ہے، کہ غلّے میں برکت کے طلب گار بیع و شراء اور استعمال کے لیے، لیتے دیتے وقت، سنت ِنبوی علیہ الصلاۃ والسلام کی پیروی کرتے ہوئے ماپ تول کریں۔ اے رب کریم ہمیں ایسا ہی کرنے کی توفیق عطا فرمائیے۔إِنَّکَ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ۔  [1] بحوالہ: شرح الطیبي ۹/۲۸۵۱۔ [2] ملاحظہ ہو: فتح الباري ۴/۲۴۶۔