کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 154
ج: امام بیہقی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے، کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اے بلال۔ رضی اللہ عنہ ۔! خرچ کرو اور عرش والے (رب العزت) سے تنگ دستی کا خدشہ نہ رکھو۔)[1] علامہ طیبی نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’وَعِنْدَ الْإِنْفَاقِ إِحْصَآئٌ وَّضَبْطٌ، وَہُوَ مَنْہِيٌّ عَنْہُ۔‘‘[2] (اور خرچ کرتے وقت گننا اور حساب کتاب کرنا ممنوع ہے۔) اس حدیث سے ذاتی استعمال میں خرچ کرتے وقت (ماپ تول کی ممانعت) پر استدلال–– واللہ تعالیٰ أعلم–– وزنی معلوم نہیں ہوتا۔ ممنوعہ بات (خرچ کرتے ہوئے بخل کرنا اور ہاتھ کو روکنا) نظر آتی ہے۔ استعمال کی خاطر دیئے جانے والے اناج کو ماپ تول کردینے کے بارے میں علامہ عینی نے ایک مزید بات تحریر کی ہے: ’’وَقَدْ کَانَ صلي اللّٰه عليه وسلم یَدَّخِرُ لِأَہْلِہٖ قُوْتَ سَنَۃٍ، وَلَمْ یَکُنْ ذَاکَ إِلَّا بَعْدَ مَعْرِفَۃِ الْکَیْلِ۔‘‘[3] (بلاشبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے لیے سال کا اناج ذخیرہ کرتے تھے اور یہ تو اس (یعنی ذخیرہ کیے جانے والے اناج) کی مقدار جاننے کے بعد ہی ہوتا تھا۔) ۵: احادیث پر محدثین کے تحریر کردہ عنوانات: آغاز میں ذکر کردہ احادیث پر تین محدثین کے تحریر کردہ عناوین حسبِ ذیل ہیں: [1] اس حدیث کی تخریج اس کتاب کے صفحہ ۷۶ میں ملاحظہ کیجیے۔ [2] شرح الطیبي ۹/۲۸۵۱۔ [3] عمدۃ القاري ۱۱/۲۴۷۔