کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 150
(لین دین میں ماپ کرنا سو (وہ تو) ظاہر ہے۔) امام ابن حبان نے اس حدیث پر درجِ ذیل عنوان لکھا ہے: (ذِکْرُ الْأَمْرِ لِمَنِ اشْتَرٰی طَعَامًا أَنْ یَّکِیْلَہٗ رِجَآئَ وَجُوْدِ الْبَرَکَۃِ فِیْہِ) [1] (غلّے میں برکت کی توقع کے پیشِ نظر گاہک کے لیے اسے ماپ کرلینے کے حکم کا ذکر) ۳: ذاتی استعمال کے وقت ماپ تول کی حکمت: اہل و عیال کے لیے غلّہ نکالتے اور ذخیرہ کرتے وقت ماپ تول کے حوالے سے علامہ مظہر نے تحریر کیا ہے: ’’وَکَذٰلِکَ لَوْ لَمْ یَکِلْ مَا یُنْفِقُ عَلَی الْعَیَالِ رُبَمَا یَکُوْنُ نَاقِصًا عَنْ قَدْرِ کِفَایَتِہِمْ، فَیَکُوْنُ النُّقْصَانُ ضَرَرًا عَلَیْہِمْ۔ وَقَدْ یَکُوْنُ زَآئِدًا عَلٰی قَدْرِ کِفَایَتِہِمْ، وَلَمْ یَعْرِفْ مَا یَدَّخِرُ لِتَمَامِ السَّنَۃِ، فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم بِالْکَیْلِ، لِیَکُوْنُوْا عَلٰی عِلْمٍ وَّیَقِیْنٍ فِیْمَا یَعْمَلُوْنَ۔‘‘[2] (اسی طرح اگر وہ کنبے کے لیے خرچ کیے جانے والے غلّے کا ماپ تول نہیں کرے گا، تو وہ بسا اوقات انہیں کفایت کرنے والی مقدار سے کم ہوگا، جس کی بنا پر انہیں تکلیف ہوگی اور بسااوقات اُن کی حاجت سے زیادہ ہوگا اور اُسے معلوم ہی نہ ہوپائے گا، کہ سال بھر کے لیے کتنی مقدار میں جمع کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غلّے کے) ماپنے کا حکم دیا، تاکہ جو وہ [1] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب البیوع، ۱۱/۲۸۵۔ [2] بحوالہ: شرح الطیبي ۹/۲۸۵۱۔