کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 143
یہ ہے، کہ ان دونوں (یعنی فروخت کنندہ اور خریدار) کے لیے برکت تو سچائی ہی سے حاصل ہوتی ہے اور وہ امورِ آخرت میں سے ہے ، جس کی بنا پر سچ بولنے والے کو ثواب ملتا ہے اور وہ ایمان کی سب سے کامل صفات میں سے ہے۔ محققین (علماء) نے کہا ہے: ’’جس نے سچ بولا اور تصدیق کی، تو وہ ضرور (اپنے مقصد کے قریب) ہوا۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں اسے بیان فرمایا: ’’لَا یُنَالُ مَا عِنْدَ اللّٰہِ إِلَّا بِطَاعَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی۔‘‘ [1] (بے شک جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، وہ ان کی اطاعت کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔)[2] (ii)حافظ ابن حجر نے حدیث کے فوائد بیان کرتے ہوئے تحریر کیا ہے: ’’ وَأَنَّ عَمَلَ الْآخِرَۃِ یُحَصِّلُ خَیْرَيْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ۔‘‘ [3] (اور یقینا آخرت کا عمل دنیا و آخرت(دونوں) کی خیر پانے کا سبب بنتا ہے۔) ۴: عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی تونگری کے اسباب: حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ان کے مال کی فراوانی کے اسباب کے متعلق دریافت کیا گیا، تو انھوں نے جواب میں فرمایا: ’’مَا کَذَبْتُ قَطُّ، وَلَا دَلَّسْتُ، وَلَا بِعْتُ بِدَیْنٍ، وَلَا رَدَّدْتُّ فَضْلًا أَيَّ شَيْئٍ کَانَ۔‘‘[4] (میں نے کبھی بھی جھوٹ نہیں بولا، نہ ہی ہیرا پھیری کی، نہ تو ادھار (سودا) فروخت کیا اور نہ ہی نفع کچھ بھی ہو، رد کیا۔ (یعنی جس نفع پر بھی سودا فروخت ہورہا ہو، اُسے فروخت کردیتا ہوں، تھوڑا نفع ملنے کے سبب [1] حدیث کے لیے ملاحظہ ہو: مجمع الزوائد، کتاب البیوع، باب الاقتصاد في طلب الرزق، ۴/ ۷۱ ؛ والترغیب والترہیب، کتاب البیوع وغیرھا، الترغیب في الاقتصاد في طلب الرزق والإجمال فیہ …، رقم الحدیث ۱۷۰۲ (۷)، ۲/۵۳۵۔ شیخ البانی نے اسے (حسن صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب والترہیب، ۲/۳۱۲)۔ [2] ملاحظہ ہو: بھجۃ النفوس ۲/۲۲۰۔ [3] فتح الباري ۴/۳۲۹۔ [4] ملاحظہ ہو: بھجۃ النفوس ۲/۲۲۰۔