کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 138
۳: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے عمل سے ترغیب: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو مُنہ اندھیرے اپنے کاموں کے لیے نکلنے کی ترغیب دینے کی خاطر صرف دعا پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اپنے طریقۂ مبارک سے بھی اس طرزِ عمل کی اہمیت اور شان و عظمت کو واضح فرمایا، کہ اپنے فوجی دستوں اور لشکروں کو صبح دَم روانہ فرمایا کرتے تھے: ۴: راوی کا حدیث پر عمل کرکے خیر و برکت پانا: حدیث کے خوش نصیب راوی حضرت صخرغامدی رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ترغیب سنی، سمجھی اور دوسرے لوگوں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ خود بھی اس پر عمل کیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا ہی میں دولت مند اور صاحبِ ثروت بنادیا۔ المسند کی روایت کے الفاظ ہیں: ’’فَکَثُرَ مَا لُہٗ حَتّٰی کَانَ لَا یَدْرِيْ أَیْنَ یَضَعُ مَا لَہٗ۔‘‘[1] (تو ان کا مال اس قدر زیادہ ہوگیا، کہ اُن کی سمجھ میں نہیں آتا تھا، کہ اُسے کہاں رکھیں )(یعنی صرف کریں))۔ تحفۃ الاحوذی میں ہے: ’’(فَأَثْرٰی) یعنی سنت کی پابندی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کی قبولیت کے سبب دولت مند ہوگیا۔‘‘[2] یہ تو تھا، سنت کی پابندی کا فوری دنیوی صلہ۔ آخرت میں جزا کس قدر عظیم ہو گی! [1] المسند، جزء من رقم الحدیث ۱۵۴۳۸، ۲۴/۱۷۱۔ اس کی سند میں ایک راوی (یعلٰی بن عطاء] کو حافظ ابن حجر نے (مجہول] قرار دیا ہے اور امام ابن حبان نے اسے (ثقہ راویوں] میں ذکر کیا ہے۔ باقی ماندہ راویان (ثقہ] اور (صحیح کے راویوں] میں سے ہیں۔ (ملاحظہ ہو: ہامش المسند ۲۴/۱۷۱)۔ مسند ابی داود الطیالسی میں بھی یہی بات ان الفاظ کے ساتھ روایت کی گئی: ’’فَکَثُرَ مَا لُہُ، حَتّٰی کَانَ لَا یَدْرِيْ أَیْنَ یَضَعُہٗ۔‘‘ (مسند أبي داود الطیالسي، جزء من رقم الحدیث ۱۳۴۲، ۲/۵۷۴) [2] تحفۃ الأحوذي ۴/۳۳۸۔ علامہ مبارک پوری نے یہ تشریح (اللمعات] (شرح المشکاۃ) سے نقل کی ہے۔ نیز ملاحظہ ہو: شرح الطیبي ۸؍۲۶۸۴ ؛ و مرقاۃ المفاتیح ۷؍۴۵۴۔