کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 135
عاشور لکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا انہیں غنی کرنا یہ ہے، کہ وہ روزمرہ کی زندگی میں ایسے اسباب اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائیں گے، کہ اُن کی معاشی جدوجہد کامیاب اور تجارت نفع بخش ہوجائے گی۔ (آیت سے) مراد یہ ہے، کہ شادی کی بنا پر اخراجات میں ہونے والے اضافے کی کفایت کرنے کی اللہ تعالیٰ نے ذمہ داری اٹھا رکھی ہے۔[1] گفتگو کا ماحاصل یہ ہے، کہ غیر شادی شدہ لوگ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے، حرام سے بچنے کی نیت سے، تنگ دستی کے باوجود، نکاح کرلیں۔ نکاح میں تاحدِّ استطاعت سادگی اختیار کریں۔ اسراف و تبذیر سے یکسر دُور رہیں۔ رزقِ حلال کے لیے خوب جدوجہد کریں اور اگر اس میں کوئی کوتاہی ہو، تو اس کا ازالہ کریں۔ ان شاء اللہ الرحمن اُن کے لیے رزق کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔  [1] تفسیر التحریر والتنویر ۱۸/۲۱۷ باختصار۔