کتاب: رزق کی کنجیاں - صفحہ 133
(پاک دامنی طلب کرنے کی غرض سے نکاح کرنے والے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کے متعلق باب) iii: امام ابن حبان نے قلم بند کیا ہے: (ذِکْرُ مَعُوْنَۃِ اللّٰہِ جَلَّ وَعَلَا الْقَاصِدَ فِيْ نِکَاحِہِ الْعَفَافَ، وَالنَّاوِيْ فِيْ کِتَابَتِہِ الْأَدَآئَ) [1] (اپنے نکاح میں حرام سے بچاؤ کا قصد کرنے اور اپنی کتابت میں ادائیگی کی نیت کرنے والے کی اللہ جل و علا کی (جانب سے) اعانت کا ذکر) ۳: حدیث (تَزَوَّجُوْا النِّسَآئَ…) پر تحریر کردہ عنوان: حافظ ہیثمی نے تحریر کیا ہے: (بَابٌ ’’تَزَوَّجُوْا النِّسَآئَ یَأْتِیْنَکُمْ بِالْأَمْوَالِ‘‘)[2] (اس بارے میں باب، کہ ’’خواتین سے شادی کرو، وہ تمہارے پاس مال لائیں گی‘‘)۔ ۴: تین تنبیہات: ا: نکاح کی وجہ سے تونگری کا وعدہ اس نکاح کرنے والے کے لیے ہے، جو اپنے نکاح سے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے، نظر کے جھکانے اور شرم گاہ کی حفاظت ، چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں دو مفسرین کے اقوال ملاحظہ فرمائیے: ’’وَالظَّاہِرُ أَنَّ الْمُتَزَوِّجَ الَّذِيْ وَعَدَہٗ بِالْغِنٰی، ہُوَ الَّذِيْ یُرِیْدُ [1] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان، کتاب النکاح، ۹/۳۳۹۔ [2] مجمع الزوائد، کتاب النکاح، ۴/۲۵۵۔